’ زندگی تنگ نہیں ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہرالدین ان چار کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جن کومیچ فکسنگ کے الزام میں تاحیات کھیل میں حصہ لینے پر پابندی لگ چکی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ میچ فکسنگ کے قضیئے نے ان کی زندگی کو مشکل نہیں بنایا ہے۔ پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کے دوران انٹرویو میں اظہرالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتھ لوگوں کا رویہ آج بھی دوستانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جہاں جاتے ہیں لوگ نہ تو فقرے کستے ہیں اور نہ ہی برا بھلا کہتے ہیں بلکہ اسی طرح محبت سے پیش آتے ہیں جیسے ان کے کھیلنے کے دنوں میں پیش آتے تھے۔ اظہرالدین چار سال قبل ختم ہونے والے کریئر کے بعد اب دوبارہ کرکٹ کے میدان میں نظرآرہے ہیں۔ وہ سری لنکا میں جاری ایشیا کپ کے میچوں پر بھارتی ٹی وی چینل” آج تک،، کے لئے ماہرانہ رائے دے رہے ہیں۔ آئی سی سی نے اظہرالدین کو ایکریڈیشن کارڈ جاری کئے جانے اور ٹی وی چینل کے لئے ان کی اسٹیڈیم میں موجودگی پرشدید ردعمل ظاہر کیا ہے لیکن اظہرالدین کو اس کی قطعا پرواہ نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ٹی وی چینل نے سوچ سمجھ کر ہی انہیں اس کام کے لئے منتخب کیا ہے اظہرالدین نے کہا کہ وہ کافی عرصے بعد کرکٹ کے میدان میں واپسی اچھی لگ رہی ہے اور وہ ایکسپرٹ کے طور پر کام کرکے لطف اندوز ہورہے ہیں،، اظہرالدین کا کہنا ہے کریئر ختم ہونے کے بعد بھی کرکٹ سے ان کی دلچسپی ختم نہیں ہوئی اگرچہ پورا میچ نہیں دیکھ پاتے لیکن وہ میچ کا کچھ حصہ دیکھ کر خِود کو باخبر رکھتے ہیں۔ کرکٹ کے میدانوں میں واپسی کے لئے اتنا انتظار کیوں کیا؟ اس سوال پر اظہرالدین بولے ” وہ جمنازیم کے اپنے پروجیکٹ میں مصروف رہے اب انہیں بھارتی چینل آج تک نے پیشکش کی جو انہوں نے قبول کی ہے اور وہ اس کے لئے ایشیا کپ کے بعد ہالینڈ میں ہونے والی سہ فریقی ون ڈے سیریز میں بھی ماہرانہ تبصرے کرینگے۔ اظہرالدین نے تاحیات پابندی کے فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کررکھی ہے لہذا وہ میچ فکسنگ کے معاملے پر زیادہ بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں سابق بھارتی کپتان کو یقین ہے کہ ان کی اپیل کا فیصلہ جلد ہوگا اور ان کے حق میں ہوگا۔ اظہرالدین کے خیال میں بھارتی ٹیم اب زیادہ فٹ اور پروفیشنل ہوگئی ہے اور اس میں ذمہ داری کا احساس بھی نمایاں نظرآتا ہے جو خوش آئند بات ہے۔ پاکستان ٹیم کے بارے میں اظہرالدین کا کہنا ہے ”باب وولمر کے آنے سے اس کی کارکردگی میں بہتری آئے گی کیونکہ وہ اخبارات میں پڑھتے رہے ہیں کہ اظہرالدین کے مطابق پاکستان ٹیم میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے لیکن اسے مستقل مزاجی اختیار کرتے ہوئے باب وولمر سے سیکھنا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||