انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت اب سے کچھ دیر بعد قذافی سٹیڈیم لاہور میں پانچویں اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں مدمقابل ہونے والے ہیں۔ پانچواں میچ جس وکٹ پر کھیلا جارہا ہے وہ چوتھے میچ کی وکٹ کے برابر والی ہے لیکن مزاج میں مختلف نہیں جس پر بھاری اسکور کی توقع کی جارہی ہے۔ سیریز دو دو سے برابر ہونے کے بعد اس میچ کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوگئی ہے جس کی وجہ سے شائقین کے جوش وخروش میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج شہر کے تمام راستے قذافی سٹیڈیم کی طرف سے جارہے ہیں۔ صبح سے ہی شائقین پریشانیوں سے بچنے کی خاطر سٹیڈیم پہنچنا شروع ہوگئے ہیں جنہوں نے میچ سے چار گھنٹے پہلے ہی نشستیں سنبھال لی تھیں۔ سب سے خوبصورت منظر بھارت سے آئے ہوئے شائقین کا ہے۔ جدید اور روایتی لباس میں بھارتی خواتین اپنے چہروں کی خوبصورتی کو پینٹ کئے ہوئے بھارتی جھنڈے کے رنگوں سے مزید بڑھاتے ہوئے سٹیڈیم میں موجود ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارتی پرچم بھی لہراتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس فیصلہ کن میچ کو دیکھنے کے لئے کئی ممتاز شخصیات بھی اسٹیڈیم میں موجود ہونگی جن میں قابل ذکر قائداعظم کے نواسے نسلی واڈیا ہیں جو اپنی فیملی کے ساتھ لاہور آئے ہیں اور حکومت پاکستان کے مہمان ہیں۔ دونوں کپتان سورو گنگولی اور انضمام الحق میچ جیتنے کے لئے پرعزم ہیں لیکن اس کے لئے انہیں ان مسائل کو قابو کرنا ہوگا جو ان کے لئے گزشتہ میچوں میں مشکلات پیدا کرتے آئے ہیں۔ سیریز سے قبل یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ سیریز بھارتی بیٹنگ اور پاکستانی بولنگ کے درمیان ہوگی لیکن پاکستان کا مضبوط بولنگ اٹیک ایکسٹرا کی بھرمار کے نتیجے میں حریف بیٹسمینوں پر اپنا زور دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||