پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی نو وکٹوں سے جیت

،تصویر کا ذریعہGetty
متحدہ عرب امارات میں تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کی جانب سے دیے جانے والا 116 رنز کا ہدف فقط ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
اوپنر شرجیل خان 22 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ خالد لطیف اور بابراعظم ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کی جیت کو یقینی بنایا۔ بابر اعظم نے 55 رنز جبکہ خالد لطیف نے 34 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔
* <link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/ECKP91015" platform="highweb"/></link>

،تصویر کا ذریعہAFP
ویسٹ انڈیز نے19.5 اوورز میں 115 رنز بنائے جس میں 8 کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد براوؤ نے عمدہ اننگز کھیلتے ہوئے 55 رنز بنائے اور 20ویں اوور کی چوتھی گیند پر چھکا لگانے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہو گئے۔
جبکہ پاکستان کی جانب سے عماد وسیم نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے چار اوورز میں پانچ کھلاڑی آؤٹ کیے۔
ویسٹ انڈیز کے آؤٹ ہونے والے پہلے بیٹسمین ایون لیوس تھے، انھیں عماد وسیم نے آؤٹ کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس کے بعد عماد نے اپنے دوسرے اوور میں فلیچر اور سیمویلز کو آؤٹ کر دیا۔ اس سے اگلے اوور میں نواز نے اوپنر چارلس کو بولڈ کر دیا۔
پاکستان نے سپنرز کے ساتھ فاسٹ بولر حسن علی کو استعمال کیا جنھوں نے اپنے پہلے اوور میں ہی پران کو آؤٹ کر دیا۔
اس کے بعد کیرنپولارڈ اور براؤ نے اننگز کو مستحکم کرنا شروع کیا لیکن عماد وسیم نے کیرنپولارڈ کو بولڈ کر کے یہ کوشش ناکام بنا دی۔
10ویں ہی اوور میں عماد نے کیرنپولارڈ کے بعد نئے آنے والے بلے باز اور ویسٹ انڈیز کے کپتان براتھ ویٹ کو کیچ آؤٹ کر دیا۔
عماد کی 10ویں اوور میں دو وکٹوں کے بعد اگلے وہاب ریاض کے اوور میں نارائن رن آؤٹ ہو گئے۔
8 وکٹوں کے نقصان کے بعد براوؤ اور ٹیلر کے درمیان 66 رنز کی شراکت داری ہوئی اور اس خاتمہ ٹیلر کا 21 رنز پر سہیل تنویر کے آؤٹ ہونے پر ہوا اور اس کی ایک گیند بھی 115 کے مجموعی سکور پر براوؤ بھی آؤٹ ہو گئے۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے ایون لیوس اور جانسن چارلس نے اننگز کا آغاز کیا۔
پاکستان کی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر کہا کہ انھوں نے اوس کی وجہ سے بعد میں بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہیں۔
سرفراز احمد کے مطابق محمد عامر کی جگہ محمد نواز کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جب کہ مڈل آرڈر بیٹسمین عمر اکمل کی بھی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں ایک روزہ میچوں میں کم وبیش ایک جیسی صورت حال سے دوچار ہیں۔
ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی عالمی رینکنگ نویں ہے اور ویسٹ انڈیز ایک درجہ اوپر آٹھویں نمبر پر ہے البتہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ویسٹ انڈیز کو پاکستانی ٹیم پر واضح برتری حاصل ہے۔
ویسٹ انڈیز کی ٹیم اس وقت ٹی ٹوئنٹی کی عالمی چیمپیئن ہے اور اس کی عالمی رینکنگ تیسری ہے جب کہ پاکستان کا عالمی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں ساتواں نمبر ہے۔
پاکستان کے خلاف ویسٹ انڈیز کی جس ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا اعلان ہوا ہے اس میں وہ چھ کھلاڑی شامل نہیں ہیں جو اس سال انڈیا میں منعقدہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا فائنل جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے اور ان میں سب سے نمایاں نام ڈیرن سیمی کا ہے۔



