ویسٹ انڈیز ٹیم میں کتنا دم خم ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم 23 ستمبر سے پاکستان کے خلاف متحدہ عرب امارات کے طویل دورے کا آغاز تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں کی سیریز سے کرنے والی ہے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان تین ون ڈے میچوں کا آغاز 30 ستمبر سے ہوگا اور اس کے بعد تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی کھیلی جائے گی۔
کرکٹ مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ ویسٹ انڈیز کے لیے ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو زیر کرنا ممکن نہ ہوگا لیکن وہ محدود اوورز کے میچوں میں برابر کا مقابلہ دیکھ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہے اور مصباح الحق کی قیادت میں اس نے انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، سری لنکا اور جنوبی افریقہ جیسی بڑی ٹیموں کے خلاف ٹیسٹ میچ جیت رکھے ہیں۔
اس کے برعکس ویسٹ انڈیز کی ٹیم اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر ہے۔
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں ایک روزہ میچوں میں کم وبیش ایک جیسی صورت حال سے دوچار ہیں۔
ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی عالمی رینکنگ نویں ہے اور ویسٹ انڈیز ایک درجہ اوپر آٹھویں نمبر پر ہے البتہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ویسٹ انڈیز کو پاکستانی ٹیم پر واضح برتری حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ویسٹ انڈیز کی ٹیم اس وقت ٹی ٹوئنٹی کی عالمی چیمپیئن ہے اور اس کی عالمی رینکنگ تیسری ہے جب کہ پاکستان کا عالمی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں ساتواں نمبر ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اپنے اندرونی مسائل سے دوچار ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں اتنا دم خم ہے کہ وہ محدود اوورز کے مقابلوں میں بھی پاکستانی ٹیم کو قابو کر سکے؟
جزائر غرب الہند کی کرکٹ کافی عرصے سے کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے درمیان شدید نوعیت کے اختلافات کا شکار ہے۔ ان اختلافات کا اثر ٹیم کی کارکردگی پر براہ راست پڑا ہے۔
پاکستان کے خلاف ویسٹ انڈیز کی جس ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا اعلان ہوا ہے اس میں وہ چھ کھلاڑی شامل نہیں ہیں جو اس سال انڈیا میں منعقدہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا فائنل جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے اور ان میں سب سے نمایاں نام ڈیرن سیمی کا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ڈیرن سیمی کی قیادت میں ویسٹ انڈیز نے دو مرتبہ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ جیتا ہے لیکن انڈیا کے خلاف امریکہ میں ہونے والے دو ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز سے قبل انھیں چیف سلیکٹر نے فون کرکے مطلع کیا کہ وہ نہ صرف اب کپتان نہیں رہے بلکہ ان کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں ہے کہ وہ عام کھلاڑی کی حیثیت سے بھی ٹیم میں جگہ برقرار رکھ سکیں۔
مبصرین ڈیرن سیمی کو ٹیم سے باہر کرنے کے اس فیصلے کو ان کی کارکردگی سے زیادہ ان کی اس تقریر کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جو انھوں نے انڈیا میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے بعد ایڈن گارڈنز میں کی تھی۔ انھوں نے اس موقع پر اپنے کرکٹ بورڈ پر سخت تنقید کی تھی۔
ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستان کا مقابلہ کرنے والی ویسٹ انڈیز ٹیم میں کرس گیل، لینڈل سمنز اور آندرے رسل جیسے اہم کھلاڑی بھی شامل نہیں ہیں۔
اس کے باوجود مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ ٹیم تجربہ کار اور نئے کھلاڑیوں کا امتزاج ہے جو 20 اوورز کی دلچسپ کرکٹ کھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ٹیم کی قیادت کارلوس بریتھ ویٹ کررہے ہیں جن کی وجۂ شہرت ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے فائنل میں انگلینڈ کے بین سٹوکس کے آخری اوور میں لگائے گئے لگاتار چار چھکے ہیں۔
بریتھ ویٹ کے علاوہ مارلن سیمیولز، ڈوائن براوو، جانسن چارلس اور ایون لوئس بیٹنگ لائن کا حصہ ہیں۔ ایون لوئس نے انڈیا کے خلاف فلوریڈا کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سنچری بنا رکھی ہے۔
کھلاڑیوں کی سلیکشن سے زیادہ اہم بات جو ویسٹ انڈین کرکٹ کے اندرونی مسائل کو اجاگر کرتی ہے وہ ٹیم کے کوچنگ سٹاف کی برطرفی ہے۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے فوراً بعد بولنگ کنسلٹنٹ کرٹلی ایمبروز کو ان کے عہدے سے فارغ کردیا گیا تھا اور اب پاکستان کے خلاف اہم سیریز سے قبل کوچ فل سمنز کی بھی چھٹی کردی گئی ہے۔
ان حالات میں ویسٹ انڈیز کے لیے اپنی قوت مجتمع کرکے پاکستانی ٹیم پر مہلک وار کرنا آسان نہ ہوگا۔



