ریو پیرالمپکس کا افتتاح

،تصویر کا ذریعہAll Sport

ریو پیرالمپکس کا بدھ کو برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ایک رنگ تقریب سے آغاز ہوا جو دنیا بھر میں کروڑوں افراد نے ٹیلی ویژن سکرینوں پر دیکھا۔

پیرالمپکس کے شروع ہونے سے قبل کھیلوں کے ان بین الاقوامی مقابلوں میں ٹکٹوں کی غیر حوصلہ افزا فروخت، فنڈنگ کا بحران اور روس کے کھلاڑیوں پر پابندی تنازعے کا شکار رہے۔

بدھ کو تمام نظریں میراکانا سٹیڈیم پر رہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں شائقین ساڑھے چار ہزار کھلاڑیوں کی پریڈ دیکھنے کے لیے موجود تھے۔

دنیا بھر کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کی 160 ٹیمیں جن میں 4300 کھلاڑی شامل ہیں نے اپنے اپنے ملک پر پرچم اٹھائے میراکانا سٹیڈیم میں ہونے والی پریڈ میں حصہ لیا۔

،تصویر کا ذریعہPA

برطانیہ کے کھلاڑی پیرسن نے گذشتہ چار پیرالمپکس کھیلوں میں 12 میڈل حاصل کیے ہیں جن میں دو طلائی تمغے بھی شامل ہیں۔

افتتاحی تقریب کے لیے 50 ہزار ٹکٹ فروخت کے لیے دستیباب کیے گئے جن میں سے منتظمین کے مطابق اب صرف ایک ہزار ٹکٹ بچے ہیں۔

افتتاحی تقریب تین گھنٹے جاری رہی جس میں موسیقار، گلوکار، رقاص اور دیگر فن کاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس تقریب میں دو ہزار کے قریب رضا کاروں نے بھی حصہ لیا۔

امریکی سنو بورڈر پیرالمپکس میں تمغے حاصل کرنے والی ایمی پرڈی نے سامبا رقص پیش کیا۔

ان کھیلوں کے انعقاد اور انتظام کے حوالے سے سب سے بڑی تشویش رقم کی کمی ہے۔ برازیل کی معیشت مشکلات کا شکار ہے اور ان کھیلوں کے ٹکٹوں کی فروخت توقعات سے کہیں کم رہی ہیں جس کی وجہ سے انتظامیہ کو پیسے کی کمی کا سامنا ہے۔