پاکستان کو ون ڈے کی کارکردگی میں بہتری کا چیلنج

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
مصباح الحق انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز برابر کرکے پاکستان کو عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی بار نمبر ایک پوزیشن پر لے آئے اور اب اظہرعلی کو پاکستان کی ون ڈے رینکنگ میں بہتری لانے کے زبردست چیلنج کا سامنا ہے۔
عالمی ون ڈے رینکنگ میں نویں نمبر کی پاکستانی ٹیم بدھ کو ساؤتھمپٹن میں پہلے ون ڈے میں انگلینڈ کے مدمقابل ہورہی ہے جس کی عالمی رینکنگ پانچویں ہے۔
گزشتہ سال ورلڈ کپ کے بعد ون ڈے کی قیادت اظہرعلی کو مصباح الحق سے ہی منتقل ہوئی تھی اور اب تک وہ بیس ون ڈے میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں جن میں سے آٹھ جیتے ہیں اور گیارہ میں شکست ہوئی ہے ۔
گزشتہ دنوں ایسوسی ایٹ ٹیم آئرلینڈ کے خلاف جیت سے قبل پاکستانی ٹیم انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف دو بڑی سیریز ہار چکی ہے۔
پاکستان نے سپنرز کے ذریعے انگلش بیٹسمینوں کو قابو کرنے کی حکمت عملی ترتیب دے رکھی ہے اسی مقصد کے تحت سکواڈ میں یاسر شاہ، عماد وسیم اور محمد نواز کو شامل کیاگیا ہے۔
عماد وسیم نے آئرلینڈ کے خلاف ون ڈے میں عمدہ بولنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔
فاسٹ بولر عمرگل کی بھی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے جنھوں نے آئرلینڈ کے خلاف میچ میں تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے نقطہ نظر سے خوش آئند بات شرجیل خان کا دو سال بعد ون ڈے ٹیم میں واپس آکر آئرلینڈ کے خلاف سنچری سکور کرنا ہے لیکن دوسری جانب محمد حفیظ کا بڑا سکور نہ کرنا ٹیم منیجمنٹ کی پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے جو تین ٹیسٹ میچوں میں قابل ذکر سکور نہ کرنے کے بعد چوتھے ٹیسٹ سے ڈراپ کردیے گئے تھے۔
کپتان اظہرعلی کی کارکردگی بھی اچھی نہیں رہی ہے۔ کپتان بننے کے بعد انھوں نے پہلے پانچ میچوں میں دو سنچریاں اور ایک نصف سنچری سکور کی تھی لیکن اس کے بعد سے پندرہ میچوں میں وہ صرف ایک نصف سنچری سکور کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔
انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ کے بعد سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے اور اس دوران وہ نیوزی لینڈ پاکستان اور سری لنکا کے خلاف سیریز جیت چکی ہے۔



