جرمن میدانوں میں ایشیائی پناہ گزینوں کی کرکٹ

    • مصنف, جینی ہل
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، مشرقی جرمنی

ایک سہ پہر کو دھوپ کے مخالف رخ پرسکون انداز میں کھڑا ایک فاسٹ بولر اچانک جست بھرتا ہے، ہاتھ گھماتا ہے اور گیند پھینکتا ہے اور گہری سرخ گیند سبز پس منظر میں ایک زناٹے سےگزر جاتی ہے۔

یہ وہ منظر ہے جس کا تصور آپ یارک شائر کے کسی ہرے بھرے گاؤں میں گرمیوں کی شام کو کر سکتے ہیں یا پھر کولکتہ کے روشنیوں میں ڈوبے گرم اور حبس والے میدان میں۔

لیکن یہ جرمنی ہے۔ وہ جرمنی جہاں فٹبال کا کھیل لوگوں کی زندگی ہے اور جہاں بہت سے لوگوں نے کبھی کرکٹ کا نام بھی نہیں سنا ہوگا۔

تاہم اب یہاں ریتیلے غیر آباد ٹکڑے، چھوڑے ہوئے میدانوں اور مستعار لیے جانے والے فٹبال میدانوں میں بلے سے گیند کے ٹکرانے کی آواز گونجتی ہے کیونکہ پاکستان اور افغانستان سے آنے والے دسیوں ہزار نوجوان جو جرمنی میں پناہ گزین کے طور پر آئے ہیں اپنے ساتھ اپنا کھیل لائے ہیں اور اس کے ساتھ اپنا جذبہ بھی۔

چانسلر آنگیلا میرکل نے کہا تھا کہ پناہ گزینوں کا بحران اس ملک کو تبدیل کر دے گا لیکن شاید یہ تبدیلی ان کے ذہن میں نہیں رہی ہوگی۔

سنہ 2012 میں جرمن کرکٹ فیڈریشن میں 1500 کھلاڑی اور 70 ٹیمیں رجسٹرڈ تھیں جبکہ آج پانچ ہزار کھلاڑی اور 220 ٹیمیں ہیں۔

یہ شہر چند دنوں کے لیے بدنام ہوا تھا جب ایک پناہ گزین کے گھر کو نذر آتش کر دیا گیا تھا اور مقامی اسے دیکھ کر خوشی میں تالیاں بجا رہے تھے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنیہ شہر چند دنوں کے لیے بدنام ہوا تھا جب ایک پناہ گزین کے گھر کو نذر آتش کر دیا گیا تھا اور مقامی اسے دیکھ کر خوشی میں تالیاں بجا رہے تھے

فیڈریشن کے مینیجر برائن مینٹل نے کہا ’یہ دیوانگی ہے‘ اور ہر دن پناہ گزین اور سماجی کارکن ان سے کسی نئی ٹیم کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جرمنی پناہ گزین کے بحران سے مغلوب ہے۔ وہ انھیں جرمن زبان میں سبق یا سکول فراہم نہیں کر سکتے۔ اس لیے وہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے ہیں۔‘

سب سے نیا قائم شدہ کرکٹ کلب مشرقی شہر باؤٹزین میں ہے۔ اس کے کوچ اور بانی احمد ارشاد کہتے ہیں: ’وہ کہتے ہیں یہ جرمنی ہے۔ یہاں کوئی کرکٹ نہیں کھیلتا۔ یہ ان کے لیے عجیب اور نئی چیز ہے۔ میں نے اپنی جانب سے بہت کوشش کی ان کو قائل کرنے کی بار بار کوشش کی اور پھر کہیں انھیں سمجھا پایا۔‘

اب باؤٹزین کے فٹبال کلب نے انھیں اپنا میدان پریکٹس کے لیے دیا ہے۔

یہاں گول پوسٹ کے قریب چند جرمن طلبا حیرت سے ان کی تربیتی سرگرمیاں دیکھ رہے ہیں اور ایک پاکستانی انھیں کھیل کے قاعدے سمجھانے کی کوشش میں ہے۔

ایک لڑکی ہنستی ہے اور اپنا سر ہلاتی ہے اور جب اس سے پوچھا کہ اسے کچھ سمجھ میں آیا تو اس نے کہا: ’یہ ایسی چیز ہے جو ہمارے یہاں جرمنی میں نہیں ہے۔ لیکن ہم اس کھیل اور ان کی تہذیب کے بارے میں کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ہم انھیں اپنی تہذیب میں شامل کر سکتے ہیں ہر کوئی ایک دوسرے سے سیکھ سکتا ہے۔‘

اپنی جیت اور مقامی اخبا میں اس کی رپورٹ پر خوش ہوتے کھلاڑی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشناپنی جیت اور مقامی اخبا میں اس کی رپورٹ پر خوش ہوتے کھلاڑی

یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ یہ کلب باؤٹزین میں پھول پھل رہا ہے۔ یہ شہر چند دنوں کے لیے بدنام ہوا تھا جب ایک پناہ گزین کے گھر کو نذر آتش کر دیا گیا تھا اور مقامی لوگ اسے دیکھ کر تالیاں بجا رہے تھے۔

آج اس شہر میں دو ہزار پناہ گزین رہتے ہیں اور بہت سی کرکٹ ٹیموں کے ارکان شہر کے باہر ایک پرانے ہوٹل میں قیام پذیر ہیں۔

جب ہم وہاں پہنچے تو وہ جشن کے موڈ میں تھے۔ ایک سنہری ٹرافی بیڈ روم میں ایک میز پر رکھی تھی اور ساتھ میں ایک مقامی اخبار کھلا پڑا تھا جس میں اس ٹیم اور مقامی لیگ میں ان کی حالیہ جیت کی رپورٹ تھی۔

ان میں سے ایک کھلاڑی سنی نے بتایا: ’اگر میں جرمنی کے لیے کچھ کر سکتا ہوں تو میں کرکٹ کھیلوں گا اور انھیں دکھا دوں گا کہ یہ کھیل ہمارے خون میں شامل ہے۔ جرمنی فٹبال میں دنیا کی بہترین ٹیم بن چکی ہے اور اب وہ کرکٹ میں بھی بنے گی۔‘

سنی کا کہنا ہے کہ ’کھیل اتحاد پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ہم میں مسلمان ہیں، عیسائی ہیں اور میں سکھ ہوں۔ جب ہم ایک ساتھ کھیلتے ہیں تو ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں۔‘