چیلسی، لیئسٹر اور آرسنل نے ڈوپنگ الزامات کو مسترد کر دیا

،تصویر کا ذریعہGetty

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کی جانب سے لگائے گئے ڈوپنگ کے ’غلط‘ الزامات کو پریمیئر لیگ کے تین کلبوں نے مسترد کر دیا ہے۔

اخبار سنڈے ٹائمز کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ لندن کے ڈاکٹر مارک بونار نے 150 سے زائد برطانوی ایتھلیٹس کو جن میں فٹبال کے کھلاڑی بھی شامل ہیں کارکردگی بڑھانے والی ممنوعہ ادوایات تجویز کی ہیں۔

فٹبال کلب آرسنل کا کہنا ہے کہ انھیں اس قسم کے دعووں کی اشاعت پر ’شدید مایوسی‘ ہوئی ہے ’جن کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔‘

چیلسی نے بھی کچھ ایسا ہی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ دعوے غلط اور بے بنیاد ہیں۔‘

پریمیئر لیگ کلب چیلسی نے مزید کہا کہ ’ہم نے ڈاکٹر بونار کی خدمات کبھی حاصل نہیں کیں اور نہ ہی ہمارے علم میں ہے اور نہ ہی ریکارڈ میں ہے کہ ہمارے کسی بھی کھلاڑی نے کبھی ڈاکٹر بونار سے رجوع کیا ہو یا ان کی خدمات حاصل کی ہوں۔‘

لیئسٹرسٹی نے بھی ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں انتہائی مایوسی ہوئی ہے کہ دی سنڈے ٹائمز نے غیر مصدقہ الزامات کو شائع کرتے ہوئے انھیں لیئسٹر سٹی اور دیگر کلبوں کے کھلاڑیوں سے منسوب کیا ہے۔‘

چیمپیئن شپ کی ٹیم برمنگھم سٹی نے کہا کہ ’کلب نے کبھی بھی ڈاکٹر بونار کے خدمات حاصل نہیں کی اور ان کے کسی کھلاڑی کے بارے میں بھی ماضی میں یا حال میں ایسا کرنے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔‘

دی سنڈے ٹائمز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس کے پاس اس بات کے کوئی آزاد ذارئع سے ملنے والے ثبوت نہیں ہیں کہ ڈاکٹر بونار نے جن کے پاس اس وقت جنرل میڈیکل کونسل کا لائسنس نہیں فٹبالر یا کسی اور کھلاڑی کا علاج کیا ہو۔

دوسری جانب ڈاکٹر بونار نے سنڈے ٹائمز کو بتایا ہے کہ انھوں نے طبی وجوہات کی بنا پر ایتھلیٹس کا اعلاج کیا نہ کہ ان کا کاکردگی بڑھانے کے لیے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسی تجاویز موجود نہیں کہ یہ اشیا غیر قانونی ہیں بلکہ ان پر کھیلوں کے اداروں نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔