’ویسٹ انڈیز کا مقابلہ پوری بھارتی قوم سے ہوگا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ویسٹ انڈیز کے کپتان ڈیرن سیمی کا کہنا ہے کہ ورلڈ ٹی 20 کے سیمی فائنل میں ویسٹ انڈیز کا مقابلہ پوری بھارتی قوم سے ہو گا، لیکن ساری توجہ دو کھلاڑیوں کرس گیل اور وراٹ کوہلی پر مرکوز ہو گی۔
سیمی فائنل سے قبل ہونے والے میچوں میں انڈیا نے آسٹریلیا کے خلاف اپنا میچ وراٹ کوہلی کی ایک زبردست اننگز کی بدولت جیت لیا جبکہ ویسٹ انڈیز جو اس ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی آئی تھی، افغانستان کے ہاتھوں شکست کھا گئی۔
ویسٹ انڈیز کے 32 سالہ کپتان نے کہا کہ ’یہ ایک بہت بڑا میچ ہو گا۔‘
ڈرین سیمی نے کہا کہ یہ مقابلہ ویسٹ انڈیز کے 15 رکنی سکواڈ کا ہزاروں بلکہ ایک ارب سے زیادہ لوگوں سے ہو گا۔ ’یہ ایک بڑا چیلنج ہے جس کا سامنا کرنے کے لیے ہم تیار ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ جو لوگ اس میچ کے بارے میں پیش گوئی کر رہے ہیں ان کے مطابق انڈیا کے جیتنے کے امکانات 80 فیصد ہیں جبکہ ویسٹ انڈیز کے جیتنے کے امکان صرف 20 فیصد ہیں۔
36 سالہ کرس گیل ویسٹ انڈیز کی ایک ایسی ٹیم کے رکن ہیں جس کے زیادہ تر ارکان اپنے کریئر کے اختتام پر ہیں اور ورلڈ ٹی20 کا اعزاز جیتنے کے لیے ان کے پاس آخری موقع ہے۔
سیمی نے کہا کہ اگلا ٹی 20 ٹورنامنٹ چار سال بعد ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت 36 سال کے ہوں گے اور گیل 40 سال کے۔ سیمی کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کا احساس ہے اس لیے وہ اپنی بھرپور توانائیوں سے یہ میچ کھیلیں گے۔
ویسٹ انڈین کپتان کے مطابق آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 چھ مرحلوں کا سفر تھا۔ انھوں نے کہا کہ چھ میں چار مرحلے انھوں نے کامیابی سے عبور کر لیے البتہ ایک جگہ وہ لڑکھڑا گئے۔
انڈین ٹیم کے اوپنگ بلے بازوں شیکھر دھون اور روہت شرما نے ورلڈ ٹی 20 کے چار میچوں میں مشترکہ طور پر صرف 88 رنز سکور کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
انڈین ٹیم کے اہم کھلاڑی یوراج سنگھ ٹخنے میں چوٹ لگنے کی وجہ سے اس میچ سے باہر ہو گئے ہیں۔ کوہلی اب تک انڈیا کی جیت میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے پاکستان کے خلاف اپنی اننگز میں 55 رنز سکور کیے تھے، جبکہ آسٹریلیا کے خلاف وہ آؤٹ ہی نہیں ہوئے۔
انڈین ٹیم کے ڈائریکٹر روی شاستری نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انڈین ٹیم کے صف اول کے بلے بازوں نے ابھی تک اس ٹورنامنٹ میں کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھائی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز اس ٹورنامنٹ کی خطرناک ترین ٹیموں میں شامل ہیں اور ان کے پاس تباہ کن بلے باز موجود ہیں جو کسی بھی لمحے میچ کا رخ پلٹ سکتے ہیں۔
روی شاستری کا کہنا تھا کہ وہ اس کے لیے تیار ہیں اور ان کی ٹیم کے حوصلے بلند ہیں۔
یوراج کے باہر ہونے کے بعد 26 سالہ منیش پانڈے کو سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔اجنکیا رہانے کو بھی میچ کھیلنے والے 11 کھلاڑیوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
انڈیا نے اب تک کے چاروں میچوں میں ایک ہی ٹیم کو کھلایا ہے اور دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے اجنکیا رہانے، آف سپنر ہربجن سنگھ، بائیں ہاتھ سے سپن بالنگ کرنے والے پون نیگی اور تیز رفتار بولر محمد شامی کو ابھی تک موقع نہیں دیا گیا۔
شاستری نے کہا کہ ابھی تک ٹیم نے اپنی صلاحیت کا 70 فیصد ہی بروئے کار لا سکی ہیں اور 30 فیصد تک ٹیم کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آپ ایک یا دو کھلاڑیوں پر انحصار نہیں کر سکتے اور ٹیم کو جیت سے ہمکنار کرنے کے لیے کم از کم چھ سے سات کھلاڑیوں کو بہتریں کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔



