میں ہوں دھونی کا دیوانہ

رام بابو ایک جوشیلے انڈین شائق ہیں جوانڈین کپتان مہندر سنگھ دھونی کے دیوانے ہیں
،تصویر کا کیپشنرام بابو ایک جوشیلے انڈین شائق ہیں جوانڈین کپتان مہندر سنگھ دھونی کے دیوانے ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام کولکتہ

انڈین شہری رام بابو نے کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں پاک بھارت میچ کے دوران بھارتی پرچم انتہائی جوش وخروش کے ساتھ لہرانے کا پورا ارادہ کررکھا ہے۔

رام بابو ایک جوشیلے انڈین شائق ہیں جوانڈین کپتان مہندر سنگھ دھونی کے دیوانے ہیں اور اپنے جسم پر انڈین پرچم پینٹ کرنے کے ساتھ ساتھ دھونی کا نام اور ان کی شرٹ نمبر سات بھی پینٹ کرتے ہیں۔

جب بھارتی ٹیم جمعے کے روز ایڈن گارڈنز میں پریکٹس کررہی تھی تو رام بابو ایک سٹینڈ میں کھڑے بھارتی پرچم لہرارہے تھے۔ ان کے ساتھ سدھیر کمار گوتم بھی بھارتی پرچم کے ساتھ موجود تھے جو سچن تندولکر کے زبردست مداح کے طور پر دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

رام بابو سے میں نے پوچھا کہ آپ نے بھی وہی کیا ہے جو سدھیر کمار گوتم کرتے ہیں یعنی جسم پر بھارتی پرچم کو پینٹ کرنا۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ سچن تندولکر کا نام پینٹ کرتے رہے ہیں اور آپ دھونی کا۔ آپ نے کچھ مختلف کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟

’میں نے وہی کیا جو میرے دل میں آیا۔ مجھے انڈین پرچم ہاتھ میں اٹھاتے ہوئے اور اس کے رنگ اپنے جسم پر پینٹ کرنے میں دلی سکون ملتا ہے ۔‘

دھونی جیسا کپتان انڈیا میں نہیں آیا ہے ۔ وہ جتنے بڑے کرکٹر ہیں اتنے ہی بڑے انسان بھی ہیں: رام بابو

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندھونی جیسا کپتان انڈیا میں نہیں آیا ہے ۔ وہ جتنے بڑے کرکٹر ہیں اتنے ہی بڑے انسان بھی ہیں: رام بابو

رام بابو سے مہندر سنگھ دھونی سے ان کی جذباتی وابستگی کی وجہ جاننی چاہی تو انھوں نے کہا ’دھونی جیسا کپتان انڈیا میں نہیں آیا ہے ۔ انھوں نے انڈیا کو ورلڈ کپ جتوایا ہے۔ وہ جتنے بڑے کرکٹر ہیں اتنے ہی بڑے انسان بھی ہیں۔ وہ ہر ایک سے محبت سے بات کرتے ہیں۔ جب وہ کرکٹ میں آئے تھے اس وقت ان کے لمبے بال ہوا کرتے تھے۔ میں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی لمبے بال رکھ لیے تھے اور میں اس وقت جسم پر پینٹ نہیں کرتا تھا بلکہ ان کے نام والی شرٹ پہن کر گراؤنڈ میں آتا تھا۔ موہالی میں جہاں میں رہتا ہوں میرے دوست مجھے دھونی کہہ کر پکارتے تھے۔‘

رام بابو نے خود بھی کرکٹ کھیلی ہے لیکن بڑا کرکٹر تو نہ بن سکے البتہ ایک بڑے شائق کے طور پر اس وقت بھارتی ٹیم کے ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

’مجھے بچپن سے کرکٹ کا شوق تھا جسے پورا کرنے کے لیے سکول سے بھاگتا تھا۔ بیگ سکول میں ہی ہوتا تھا لیکن میں گراؤنڈ میں گیند اور بلے کے ساتھ ہوا کرتا تھا۔ میں کرکٹ میں آگے نہیں بڑھ سکا تو پھر میں نے اس شوق کی تکمیل کے لیے یہ راستہ اپنا لیا۔ اب جہاں بھی انڈین ٹیم کھیلتی ہے میں اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے میدان میں موجود ہوتا ہوں۔‘