کرکٹ کے منفرد چہرے

میدان میں ہزاروں تماشائیوں میں سے چند ہی ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمیدان میں ہزاروں تماشائیوں میں سے چند ہی ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کرکٹ کا ایک چہرہ وہ ہے جو کرکٹر دنیا کو دکھاتے ہیں لیکن دوسرا رخ بھی کم اہم نہیں کیونکہ اگر میدان میں تماشائی نہ ہوں تو یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جنگل میں مور ناچا کِس نے دیکھا۔

میدان میں ہزاروں تماشائیوں میں سے چند ہی ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں اور اس کے لیے یہ لوگ مختلف انداز اختیار کرتے ہیں۔ کوئی رنگ برنگی وِگ سر پر سجاتا ہے تو کوئی بدن پر اپنے ملک کے پرچم پینٹ کراتا ہے تو کوئی اپنے لباس یا حرکات و سکنات سے منفرد دکھائی دینے کی کوشش کرتا ہے۔

چاچا کرکٹ

صوفی جلیل 1997 کے شارجہ ٹورنامنٹ میں پہلی بار میں سبز لباس کے ساتھ گراؤنڈ میں آئے تھے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنصوفی جلیل 1997 کے شارجہ ٹورنامنٹ میں پہلی بار میں سبز لباس کے ساتھ گراؤنڈ میں آئے تھے

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے صوفی جلیل پہلی بار کسی اسٹیڈیم میں پر جوش نعرے لگانے اس وقت داخل ہوئے تھے جب سنہ 1968 میں کالن کاؤڈرے کی انگلینڈ کی ٹیم لاہور میں ٹیسٹ میچ کھیل رہی تھی۔ لیکن اس وقت انھوں نے اپنا مخصوص سبز لباس نہیں پہنا تھا۔ یہ روپ انھوں نے شارجہ اسٹیڈیم میں اختیار کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اور شارجہ لازم و ملزوم ہو گئے۔

صوفی جلیل کہتے ہیں: ’1997 کے شارجہ ٹورنامنٹ میں پہلی بار میں سبز لباس کے ساتھ گراؤنڈ میں آیا تھا۔ میں نے دنیا کے کئی میدانوں میں اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھایا ہے لیکن شارجہ کی بات ہی کچھ اور ہے اس نے مجھے مشہور کر دیا۔‘

صوفی جلیل اپنے منفرد انداز کے بارے میں کہتے ہیں: ’پہلے میں جب میدان میں داخل ہوتا تھا تو میرے ایک ہاتھ میں سیب کی تھیلی ہوتی تھی اور دوسر ے میں مالٹوں کی، اور میں آواز لگاتا تھا جدھر دیکھو پاکستان ہی پاکستان ہے جس کے ساتھ ہی میں بڑھک مارتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں نے نعرے تبدیل کیے ہیں۔ آج کل میں پاکستان زندہ باد کہنے سے پہلے آواز لگاتا ہوں ’پیار کیا تو ڈرنا کیا۔‘‘

چاچا ٹی ٹوئنٹی

زمان خان چونکہ ٹی 20 میچ کے دوران مشہور ہوئے لہٰذا سب انھیں چاچا ٹی 20 کے نام سے پکارتے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنزمان خان چونکہ ٹی 20 میچ کے دوران مشہور ہوئے لہٰذا سب انھیں چاچا ٹی 20 کے نام سے پکارتے ہیں

اپنی گھنی مونچھوں کو تاؤ دینے کےلیے مشہور چاچا ٹی 20 کا اصل نام محمد زمان خان ہے۔

زمان خان بھی کافی عرصے سے کرکٹ کے میدانوں میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ابتدا میں وہ صوفی جلیل کے ساتھ صرف اس لیے دکھائی دیتے تھے کہ ٹی وی پر سب انھیں بھی دیکھ سکیں لیکن پھر انھوں نے اپنی الگ راہ لے لی۔ آج وہ اپنی گھنی مونچھوں اور پگڑی کی وجہ سے کرکٹ کے میدانوں میں پہچانے جاتے ہیں۔

زمان خان نے چونکہ یہ روپ دبئی کےٹی 20 میچ کے دوران اختیار کیا لہٰذا سب انہیں چاچا ٹی 20 کے نام سے پکارتے ہیں۔

کرکٹ سے زمان خان کے شوق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ دبئی میں مٹھائی پر دکان پر کام کرتے تھے اور ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کا میچ دیکھنے کے لیے ڈھاکہ جانا چاہتے تھے لیکن مالک نے اجازت نہیں دی تو ملازمت ہی چھوڑ دی۔

سدھیر کمار گوتم (سچن)

سدھیر کمار بہار سے اپنی سائیکل پر 21 دن کا سفر طے کر کے سچن تیندلکر کا میچ دیکھنے ممبئی پہنچے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسدھیر کمار بہار سے اپنی سائیکل پر 21 دن کا سفر طے کر کے سچن تیندلکر کا میچ دیکھنے ممبئی پہنچے

شہرۂ آفاق سچن تیندلکر کے سب سے بڑے پرستار کے طور پر مشہور سدھیر کمار گوتم گذشتہ 12 سال سے بھارت میں کھیلے جانے والے ہر میچ میں بھارتی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے موجود ہوتے ہیں اور جب بھارتی ٹیم ملک سے باہر جاتی ہے تو اکثر وہ بھی متمول افراد کی معاونت کی وجہ سے ان دوروں پر جاتے ہیں۔

سدھیر کمار اس وقت شہ سرخیوں میں آئے جب وہ بہار سے اپنی سائیکل پر 21 دن کا سفر طے کر کے سچن تیندلکر کا میچ دیکھنے ممبئی پہنچے تھے اور وہیں سے ان کے کرکٹ کے سفر کا بھی باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔

سدھیر کمار کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ اپنے جسم پر بھارتی پرچم پینٹ کرتے ہیں جس پر تیندلکر اور ان کی قمیص کا نمبر دس بھی ہوتا ہے۔

سچن تیندلکر کو بھی سدھیر کی ان سے والہانہ محبت کا بخوبی اندازہ ہے اور جب بھارت نے 2011 کا عالمی کپ جیتا تو سچن تیندلکر نے سدھیر کو ڈریسنگ روم میں خاص طور پر بلا کر انھیں حیران کردیا تھا۔ یہ وہ موقع تھا جب سدھیر نے اپنے ہاتھ میں ورلڈ کپ اٹھاتے ہوئے سچن اور دھونی کے ساتھ تصویریں بنوائی تھیں۔

بنگال ٹائیگر

شعیب علی کے گھر والوں کو پتہ ہی نہ چلا کہ سٹیڈیم میں بنگال ٹائیگر کا روپ دھارنے والا یہ نوجوان ان کا اپنا بیٹا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنشعیب علی کے گھر والوں کو پتہ ہی نہ چلا کہ سٹیڈیم میں بنگال ٹائیگر کا روپ دھارنے والا یہ نوجوان ان کا اپنا بیٹا ہے

بنگلہ دیشی ٹیم کے زبردست مداح شعیب علی اپنے ملک میں آج اتنے ہی مقبول ہیں جتنے شکیب الحسن یا تمیم اقبال، لیکن یہ پہچان ان کے اصل نام کے بجائے بنگال ٹائیگر کے نام سے ہے۔

شعیب علی کو میدان میں آ کر اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کا خیال پاکستان کے چاچا کرکٹ اور بھارت کے سدھیر کمار چودھری کو دیکھ کر آیا۔

شعیب علی بنیادی طور پر مکینک ہیں لیکن کرکٹ کا شوق اس قدر حاوی ہوا کہ گاڑیوں کی ڈینٹنگ پینٹنگ کے بجائے اپنے جسم پر پینٹنگ شروع کر دی۔

شعیب اپنے جسم پر بنگلہ دیشی پرچم اور بنگال ٹائیگر کے رنگ پینٹ کرتے ہیں اور شیر کی طرح ہی دھاڑتے ہوئے میدان میں سب کو اپنی جانب متوجہ کر لیتے ہیں۔

ابتدا میں ان کے گھر والوں کو پتہ ہی نہیں چلا کہ سٹیڈیم میں بنگال ٹائیگر کا روپ دھارنے والا یہ نوجوان ان کا اپنا بیٹا ہے۔

کرکٹ کا شوق ایک بار انھیں بغیر پاسپورٹ بھارت بھی لے گیا جس کی انھیں بھاری قیمت چکانی پڑی تھی۔