محض ایک کھیل یا سرحدوں کی رقابت؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کولکتہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی رقابت کو صرف سیاسی اور عسکری حلقے ہی محسوس نہیں کرتے اس کے اثرات کرکٹرز کے ذہنوں پر بھی ثبت ہیں جس کا وہ اکثر اظہار بھی کردیتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی میں ہفتے کے روز کولکتہ میں مقابل ہو رہی ہیں اور بھارتی آف سپنر روی چندرن ایشون کہتے ہیں کہ یہ کھیل سے زیادہ سرحدوں کی رقابت ہے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس ان کی اس بات کی شدت کو اس طرح کم کرتے ہیں کہ پہلے یہ کھیل ہے پھر رقابت۔
میچ سے قبل ہونے والی پر ہجوم پریس کانفرنس میں روی چندرن ایشون کا کہنا تھا کہ دونوں ٹیموں کے درمیان یہ رقابت بہت زیادہ ہے۔ یہ ایشیز سے بھی زیادہ ہے۔ دونوں ملکوں کے لوگ اسے صرف کرکٹ کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ یہ سرحدوں کی رقابت ہے۔ لوگوں کے جذبات اپنی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں جبکہ کھلاڑی اپنے جذبات ایک طرف رکھتے ہوئے اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایشون کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے خلاف کافی میچ کھیل چکے ہیں لہٰذا وہ اس میچ میں خود پر کوئی دباؤ محسوس نہیں کرتے۔ بھارت کا ہر میچ دباؤ والا میچ ہوتا ہے جس کا اندازہ اسی پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کی بہت بڑی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ پاک بھارت رقابت ضرور ہے لیکن ہمیں پہلے اسے ایک کھیل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اس کی نہ صرف ثقافتی تاریخ ہے بلکہ کرکٹ کی بھی تاریخ ہے اور اس کرکٹ کوصرف برصغیر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا توجہ سے دیکھتی آئی ہے۔
وقار یونس سے ایڈیلیڈ کے بعد اب کولکتہ میں بھی یہی سوال کیا گیا کہ پاکستانی ٹیم آئی سی سی کے عالمی مقابلوں میں بھارت سے نہیں جیت پائی ہے تو کیا اس بار یہ تاریخ تبدیل ہوگی؟

،تصویر کا ذریعہ
وقاریونس کا کہنا ہے کہ تاریخ تبدیل بھی ہوتی ہے اور اس بار صورتحال یہ ہے کہ دباؤ پاکستانی ٹیم پر نہیں بلکہ بھارتی ٹیم پر ہوگا کیونکہ وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے خطرے سے دوچار ہے اور پاکستانی ٹیم اس بات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ بنگلہ دیش کے خلاف جیت سے کئی چیزیں پاکستانی ٹیم کے حق میں گئی ہیں۔
وقار یونس کہتے ہیں کہ بھارت سے آئی سی سی ٹورنامنٹس میں نہ جیتنے کی بات کھلاڑیوں کے ذہنوں میں بیٹھی نہیں ہے بلکہ بٹھا دی گئی ہے اور اس بات کا اتنا چرچا اور ہوا کھڑا کردیا گیا ہے کہ اس سے دباؤ قائم ہوجاتا ہے لیکن اس بار یہ دباؤ بھارتی ٹیم پر ہے اور وہ اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پر یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ بھارتی کرکٹرز یہ دباؤ محسوس نہ کررہے ہوں۔



