آنیلیک کربر نے سرینا ولیم کو ہرا دیا

،تصویر کا ذریعہAFP
جرمنی کی آنیلیک كربر نے 21 مرتبہ گرینڈ سلیم جیتنے والی سرینا ولیمز کو ایک زبردست مقابلے کے بعدشکست دے کر آسٹریلین اوپن جیت لیا ہے۔
انھوں نے سرینا کو 6-4، 3-6، 6-4 سے شکست دی اور پہلی مرتبہ خواتین کے سنگلز مقابلوں میں آسٹریلین اوپن کا اعزاز جیتا۔
34 سالہ سرینا چھ بار آسٹریلین اوپن میں خواتین سنگلز کی چیمپیئن رہی ہیں۔
سرینا اور کربر میں یہ مقابلہ دو گھنٹے سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہا۔
جرمنی کی كربر نے پرزور آغاز کیا اور بغیر کوئی سیٹ گنوائے فائنل میں پہنچنے والی سرینا کو کورٹ میں خوب دوڑایا۔ انھوں نے پہلا سیٹ 6-4 سے جیتا۔
لیکن سرینا پہلے سیٹ میں جتنی بے اثر دکھائی دے رہی تھی، دوسرے سیٹ میں اتنی ہی طاقتور ہوکر لوٹیں۔ انھوں نے دوسرا سیٹ با آسانی 6-3 سے جیت کر مقابلہ میں برابری حاصل کر لی، لیکن مجموعی طور پر ایک سخت مقابلے کے بعد كربر فاتح ٹھہریں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سنہ 1999 کے فرینچ اوپن کی مشہور فاتح سیٹی گراف کے بعد اٹھائیس سالہ آنیلیک كربر پہلی جرمن کھلاڑی ہیں جنھوں نے کوئی گرینڈ سلیم جیاتا ہے۔
26 گرینڈ سلیم میں حصہ لینے والی 34 سالہ سرینا ولیمز کے لیے محض پانچواں موقع ہے جب انھیں فائنل میں اپنی مخالف کھلاڑی سے شکست ہوئی ہے، لیکن انھوں نے اسے بڑی خندہ پیشانی سی قبول کیا اور کربر کی کھُل کر تعریف کی۔
اس فتح کے بعد اب آنیلیک كربر عالمی درجہ بندی میں ایک پوائنٹ اوپر آ گئی ہیں۔
آسٹریلین اوپن جیتنے پر کربر کا کہنا تھا کہ ’ یہ کہنے کے قابل ہونا کہ میں نے گرینڈ سلیم جیت لیا ہے، اپنے اندر ایک اچھوتی بات ہے۔‘
’یہ میرا خواب تھا اور میں نے ساری زندگی اس خواب کے لیے کام کیا ہے۔‘
’گزشتہ دو ہفتوں میں چیزیں اتنی اوپر نیچے ہوئیں کہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ ایک وہ وقت تھا کہ میں پہلے راؤنڈ میں ایک پوائنٹ نیچے چلی گئی تھی میرا پاؤں جہاز پر تھا کہ اب میں ٹورنامنٹ سے باہر ہو کر واپس جرمنی چلی جاؤں گی۔‘
’لیکن آج وہ دن بھی آ گیا ہے کہ میں نے سرینا ولیمز کو شکست دے دی ہے اور چیمپیئن شِپ جیت لی ہے۔ اس وقت میرے اندر خیالات اور جذبات کا ایک طوفان ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ یہ تمام جذبات اچھے جذبات ہے۔‘
اس موقع پر سرینا ولیمز نے کربر کو مخاطب کر کے کہا کہ ’تمہیں مبارک ہو۔ تم اس ٹائیٹل کی حقدار تھیں اور میں تمہاری جیت پر بہت خوش ہوں۔ میری دعا ہے کہ تم اس لمحے کو خوب انجوائے کرو۔‘
’کیا میں آج کے مقابلے میں خود کو ’اے‘ دوں گی؟ نہیں، لیکن سچ یہی ہے کہ میں جتنا اچھا کھیل پیش کر سکتی تھی وہ میں نے کِیا۔ میں کوئی روبوٹ نہیں ہوں۔ میں جتنا اچھا کھیل سکتی تھی، میں کھیلی۔ میں ہر مقابلہ جیتنا چاہتی ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں ہر مرتبہ جیت نہیں سکتی۔ کوئی دوسرا بھی جیت سکتا ہے۔‘



