آسٹریلیا کے خلاف بھارت کو مسلسل تیسری شکست

میلبرن میں بھارت کے خلاف کھیلی جانے والی ایک روزہ میچوں کی سیریز کے تیسرے میچ میں آسٹریلیا نے بھارت کے 295 رنز کا کامیابی سے تعاقب کرتے ہوئے فتح حاصل کر لی ہے۔
بھارت نے مقررہ 50 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 295 رنز بنائے اور آسٹریلیا کو جیت کے لیے 296 رنز کا ہدف دیا، جس کے جواب میں آسٹریلیا نے سات گیندیں قبل ہی سات وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔
<link type="page"><caption> میچ کا سکور کارڈ جاننے کے لیے کلک کریں</caption><url href="http://www.bbc.com/sport/cricket/scorecard/ECKP90194" platform="highweb"/></link>
آسٹریلیا کی جانب سے گلین میکسویل نے 96 رنز کی فتح گر اننگز کھیلی۔ میچ کے آخری اوور میں وہ سینچری مکمل کرنے کی کوشش میں یادو کی گیند پر شیکھر دھون کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔
ان کے علاوہ اوپنر شان مارش نے بھی 62 رنز کی اننگز اچھی کھیلی، جب کہ کپتان سٹیون سمتھ نے اپنی بھرپور فارم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 41 رنز بنائے۔
بھارت کی جانب سے شکھر دھون اور روہت شرما نے اننگز کا آغاز کیا تو ابتدائی دو ایک روزہ میچوں میں سنچری سکور کرنے والے روہت شرما صرف چھ رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شکھر دھون اور وراٹ کوہلی نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 119 رنز بنائے اور دونوں بلے باز اپنی اپنی نصف سنچریاں سکور کیں۔ اس کے بعد رہانے اور کوہلی کے درمیان 109 رنز کی شراکت ہوئی۔ رہانے 50 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔
کوہلی 117 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ کپتان مہندر سنگھ دھونی نے نو گیندوں پر 23 رنز بنائے۔
وراٹ کوہلی اسی میچ میں ایک روزہ میچوں میں سب سے تیز سات ہزار رنز مکمل کرنے والے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں۔ انھوں نے یہ سنگ میل 169 میچوں میں عبور کیا۔
اس سے قبل جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرز نے یہ کارنامہ 172 میچز کی 166 اننگز میں انجام دیا تھا۔
بھارت کی جانب سے دو نئے کھلاڑی ایک روزہ میچوں میں پہلی بار بھارت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ آل راؤنڈر رشی دھون اور میڈیم فاسٹ بولر گرکریت سنگھ کو ٹیم میں شامل کیا گيا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سے قبل بھارت کو دونوں ون ڈے میچوں میں پہلے بلے بازی کرتے ہوئے شکست کا سامنا رہا ہے۔
پرتھ میں کھیلے جانے والے پہلے میچ میں آسٹریلیا کو پانچ وکٹوں سے کامیابی ملی تھی۔
جبکہ سڈنی میں کھیلے جانے والے دوسرے میچ میں اس نے بھارت کو سات وکٹوں سے ہرایا تھا۔ بھارت نے دونوں میچوں میں تین سو سے زیادہ سکور کیے تھے۔



