’عامر نے جو کیا اس کی قیمت چکا دی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نیوزی لینڈ پہنچتے ہی پاکستانی ٹیم مینیجمنٹ سے سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ فاسٹ بولر محمد عامر سے متعلق سوالات شروع ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے ٹی20 کپتان شاہد آفریدی اور کوچ وقار یونس سے منگل کو آک لینڈ میں ہونے والی پریس کانفرنس میں کیے گئے 18 میں سے آٹھ سوالات صرف اور صرف محمد عامر سے متعلق تھے۔
وقار یونس سے ایک سوال کچھ اس طرح تھا کہ سب کی توجہ بولنگ کرتے ہوئے محمد عامر کے فرنٹ فٹ پر ہوگی تو کیا انھوں نے اپنے رن اپ میں کسی قسم کی تبدیلی کی ہے کہ دوبارہ وہ چیز نہ ہو؟
یہ سوال کرنے والے صحافی کا اشارہ نو بال کی جانب تھا جس کا جواب دیتے ہوئے وقار یونس بھی ہنس پڑے اور انھوں نے ازراہِ تفنن جواب دیا کہ ’امید ہے۔‘
وقار کا مزید کہنا تھا کہ اب تو محمد عامر کا پاؤں کریز سے باہر کے بجائے پہلے پڑ رہا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ کا کہنا تھا کہ ’جو ہونا تھا وہ ہو چکا، محمد عامر کو سب باتوں کا پتہ ہے۔ وہ واپس آئے ہیں اور ہم سب مثبت سوچ رکھے ہوئے ہیں اور میڈیا بھی مثبت ہے کیونکہ محمد عامر نے جو کچھ بھی کیا اس کی قیمت انھوں نے چکا دی ہے۔‘
وقار یونس کے مطابق محمد عامر ابھی پانچ سال پہلے جیسے نہیں ہیں لیکن اس کے قریب تر ہیں۔ انھوں نے بنگلہ دیشی لیگ میں بہت ہی عمدہ سپیل کیے اور جوں جوں وہ کھیلیں گے وہ پہلے جیسے بولر بن جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ جب محمد عامر کیمپ میں آئے تھے تو دباؤ کا شکار تھے لیکن تمام کھلاڑیوں نے ان کی بڑی مدد کی۔
پاکستانی ٹیم کے کوچ کا کہنا ہے کہ محمد عامر ذہین بولر ہیں اور انھوں نے اپنی پوری توجہ کرکٹ پر رکھی ہے اب دیکھنا ہوگا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آنے کے بعد وہ کس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن انھیں یقین ہے کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
اس موقعے پر شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ محمد عامر بولنگ کے اعتبار سے پہلے جیسے بولر ہیں۔ ان کی کارکردگی اور رویہ دونوں بہترین ہیں اور انھیں توقع ہے کہ وہ پہلے جیسی کارکردگی کامظاہرہ کریں گے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا ٹی 20 انٹرنیشنل جمعے کو آک کلینڈ میں کھیلے گی۔



