پاکستانی کرکٹرز کے بارے میں شک و شبہ نہیں: رچرڈسن

پاکستانی کھلاڑی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کی ٹیم مینجمنٹ کو ٹیم پر مکمل بھروسہ ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ڈیورچرڈسن نے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان شارجہ میں ہونے والے تیسرے ون ڈے میں پاکستانی بیٹسمینوں کے رن آؤٹ کو کھیل کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس بارے میں کسی بھی قسم کے شک وشبہے کو مسترد کردیا ہے۔

ڈیوڈ رچرڈسن کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں شارجہ کرکٹ کے بارے میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ شارجہ میں کھیلا گیا تیسرا ون ڈے اسوقت سے شہ سرخیوں میں ہے جب انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے اس میچ میں پاکستان کی شکست کو مشکوک قرار دیتے ہوئے پاکستانی بیٹسمینوں کی کارکردگی خاص کر تین رن آؤٹ کے بارے میں ٹوئٹس کیے تھے جو انھوں نے کچھ دیر بعد ہی اپنے صفحے سے ہٹا بھی دیے تھے۔

مائیکل وان کے ٹوئٹس کے بعد لندن کے اخبار ڈیلی میل میں ایڈ ہاکنز نے اپنے مضمون میں تیسرے ون ڈے کو مبینہ طور پر مشکوک قرار دیتے ہوئے یہ کہا کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ اس میچ کے بارے میں تحقیقات کر رہا ہے۔

آئی سی سی نے اس بارے میں تردید یا تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا اس بارے میں شدید ردِ عمل سامنے آچکا ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کہہ چکے ہیں کہ وہ آئی سی سی میں اس بارے میں احتجاج کرینگے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس نے بھی میچ فکسنگ کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اپنے کھلاڑیوں پر مکمل بھروسہ ہے۔

پاکستانی بیٹسمین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی بیٹسمینوں کی کارکردگی پر شک کا اظہار کیا گیا تھا

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ڈیورچرڈسن نے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ون ڈے سیریز کے دوران بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں واضح طور پر کہا کہ وہ بھی اپنے کریئر میں رن آؤٹ ہوتے رہے ہیں لہذا اس بارے میں شک و شبہے کی ضرورت نہیں۔

رچرڈسن نے پاکستانی کھلاڑیوں کی تعریف کی ہے کہ حالیہ برسوں میں مشکوک افراد نے جب جب ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی انھوں نے اس بارے میں آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کو مطلع کیا ہے۔

ڈیورچرڈسن شارجہ کرکٹ کے بارے میں بھی واضح سوچ رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ شارجہ اب صاف ہوچکا ہے اور جو لوگ ذمہ دار تھے وہ جا چکے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دو سابق کپتان وسیم اکرم اور رمیز راجہ نے مشورہ دیا ہے کہ مائیکل وان جیسے لوگوں کی باتوں پر دھیان دینے کی ضروررت نہیں۔

وسیم اکرم نے سوال کیا ہے مائیکل وان کون؟

ان کا کہنا ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مائیکل وان کی باتوں کو اتنا سنجیدہ کیوں لیا گیا ہے؟

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ مائیکل وان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں لہذا وہ ٹوئٹر پر اس طرح کے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو رچرڈسن کا تازہ ترین بیان کہ انھیں پاکستانی کرکٹرز اور شارجہ کے بارے میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ پاکستانی ٹیم اس وقت کسی طرح کی بھی منفی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے۔

دوسری جانب شارجہ کرکٹ کے حکام بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد سے اس بارے میں ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی میزبانی کرنے والے اس مرکز کو اب دوبارہ منفی انداز میں پیش نہ کیا جا سکے۔