سپنرز نے پاکستان کو دبئی ٹیسٹ جتوا دیا

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
پاکستان نے دبئی میں کھیلا جانے والا دوسرا ٹیسٹ 178 رنز سے جیت لیا۔
انگلینڈ کو جیتنے کے لیے 491 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن اس کی پوری ٹیم 312 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تاہم پاکستانی بولرز کو 137.3 اوورز کی طویل بولنگ کے بعد ہی یہ کامیابی مل سکی۔
پاکستانی بولرز کے صبر کا امتحان لینے والے عادل رشید تھے، انھوں نے انتہائی ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 61 رنز بنائے۔
یاسر شاہ جنھوں نے پہلی اننگز میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں دوسری اننگز میں بھی چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
ذوالفقار بابر کو اس سیریز میں عمدہ بولنگ کے باوجود زیادہ وکٹیں نہیں مل سکی تھیں، لیکن وہ بھی تین بیٹسمینوں کو آؤٹ کرنے میں کامیاب رہے۔
پاکستانی فیلڈنگ خاصی خراب رہی۔ ذوالفقار بابر کی بولنگ پر شان مسعود نے جانی بیرسٹو اور بین سٹوکس کے کیچ ڈراپ کیے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
محمد حفیظ یاسر شاہ کی گیند پر عادل رشید کا کیچ لینے میں ناکام رہے اور آخری بیٹسمین جیمز اینڈرسن کا کیچ ذوالفقار بابر کی گیند پر اسد شفیق نے گرا دیا۔
میچ کے آخری دن انگلینڈ کی مزاحمت کے طول پکڑنے کا تمام تر دارومدار جو روٹ پر تھا جو گذشتہ روز 59 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے لیکن پہلے گھنٹے کے کھیل میں ہی 71 رنز پر ان کی وکٹ پاکستانی ٹیم کو مل گئی۔
ذوالفقار بابر کی گیند پر سلپ میں یونس خان نے بالکل اسی انداز میں جو روٹ کا کیچ لیا جس طرح انھوں نے پہلی اننگز میں جانی بیرسٹو کا کیچ لیا تھا لیکن ٹی وی امپائر نے انھیں ناٹ آؤٹ قرار دیا تھا تاہم اس بار ٹی وی امپائر کرس گیفینی کو فیصلہ کرنے میں دیر نہ لگی۔
کھانے کے وقفے سے قبل یاسر شاہ نے دو کامیابیاں حاصل کیں۔ انھوں نے پہلے گگلی پر 22 رنز بنانے والے جانی بیرسٹو کا دفاع توڑا اور پھر جوز بٹلر کو سات رنز کے انفرادی سکور پر سلپ میں یونس خان کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔
کھانے کے وقفے کے بعد عمران خان کی گیند پر سلپ میں مصباح الحق نے بین سٹوکس کا کیچ دبوچا توانگلینڈ کا سکور سات وکٹوں پر 193 رنز تھا۔
عادل رشید اور سٹورٹ براڈ نے آٹھویں وکٹ کی شراکت میں 60 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ 15 اوورز کھیلے۔
وہاب ریاض براڈ کو 30 رنز پر بولڈ کر کے مصباح الحق کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئے لیکن عادل رشید پاکستانی بولرز کے ہاتھ آنے کے لیے تیار نہ تھے۔ انھوں نے مارک ووڈ کے ساتھ نویں وکٹ کی شراکت میں 55 رنز قائم کی جس کے لیے ان دونوں نے 176گیندیں کھیلیں۔
مارک ووڈ 29 رنز بناکر ذوالفقار بابر کی گیند پر محمد حفیظ کے ہاتھوں کیچ ہوئے تو پاکستان کو جیت کے لیے صرف ایک وکٹ درکار تھی جو اسے اس وقت ملی جب صرف 6.3 اوورز باقی تھے۔
عادل رشید آؤٹ ہونے والے آخری بیٹسمین تھے جنھیں یاسرشاہ کی گیند پر ذوالفقاربابر نے کیچ کیا۔
عادل رشید نے 239 منٹ بیٹنگ کی اور 172 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے سات چوکے لگائے۔
پاکستان نے یہ ٹیسٹ میچ اسی دن جیتا ہے جس روز اس نے اپنا اولین ٹیسٹ جیتا تھا۔
26 اکتوبر سنہ 1952 میں پاکستان نے بھارت کو لکھنؤ ٹیسٹ میں شکست دی تھی۔



