دوسرے دن کے اختتام پر انگلینڈ کی پوزیشن مستحکم

جیمز ٹیلر اور جونی بیرسٹو پاکستانی بولروں کے خلاف دیوار بن گئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجیمز ٹیلر اور جونی بیرسٹو پاکستانی بولروں کے خلاف دیوار بن گئے

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان شارجہ میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز کے تیسرے سیشن میں جیمز ٹیلر اور بیرسٹو کے درمیان شراکت نے انگلینڈ کی اننگز کو مستحکم کر دیا ہے۔

میچ کے اختتام پر انگلینڈ نے صرف چار کھلاڑیوں کے نقصان پر 222 رنز بنا لیے تھے، اور اسے پاکستان کی پہلی اننگز کے سکور پر سبقت حاصل کرنے کے لیے صرف 13 رنز درکار ہیں۔

جیمز ٹیلر نے عمدہ بلےبازی کا مظاہرہ کرتے 74 رنز بنائے ہیں جب کہ جونی بیرسٹو 37 رنز بنا کر ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ دونوں کے درمیان پانچویں وکٹ کی ناقابلِ شکست شراکت میں 83 رنز بن چکے ہیں۔

میچ کے دوسرے دن شارجہ کی پیچ میں وہ سپن نظر نہیں آئی جو کھیل کے پہلے دن دیکھنے کو ملی تھی۔ مصباح الحق نے دوسری نئی گیند بھی لے

پاکستان کے کپتان مصباح الحق اپنی سنچری نہ مکمل کر سکے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے کپتان مصباح الحق اپنی سنچری نہ مکمل کر سکے

لی لیکن اسے سے الٹا برطانوی کھلاڑیوں کو مدد ملی اور ان کی سکورنگ کی رفتار تیز ہو گئی۔

پاکستان کی جانب سے چھ بولر آزمائے گئے لیکن اب تک صرف یاسر شاہ، شعیب ملک اور راحت علی کو کامیابی حاصل ہو سکی ہے۔

<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/ECKP90170" platform="highweb"/></link>

اس وکٹ پر برطانوی بلے بازوں نے پاکستان کو سبق دیا ہے کہ ٹیسٹ میچ میں کس طرح بیٹنگ کرنی چاہیے۔ کپتان کک نے 119 گیندیں کھیلیں، بیل 158 گیندوں تک پاکستان بولروں کا مقابلہ کرتے رہے جب کہ ٹیلر تاحال 141 اور بیرسٹو 94 گیندیں کھیل چکے ہیں۔

چائے کے وقفے تک انگلینڈ کے صرف تین کھلاڑی آؤٹ تھے لیکن چائے کے وقفے کے بعد ایئن بیل کے خلاف یکے بعد دیگرے کئی اپیلیں ہوئیں اور کیچ کا امکان بھی پیدا ہوا۔

انگلینڈ کے بولروں نے پاکستان کو کھل کر کھیلنے نہیں دیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنانگلینڈ کے بولروں نے پاکستان کو کھل کر کھیلنے نہیں دیا

ایئن بیل ان اپیلوں سے تو بچ گئے لیکن اس دباؤ میں وہ یاسر شاہ کی ایک پیچھے گری ہوئی گیند پر کریز سے نکل کر زور دار شاٹ لگانا چاہتے تھے۔ اس کوشش میں گیند انھیں دھوکہ دے گئی اور وکٹ کپیر سرفراز نے ان کو سٹمپ کر دیا۔ وہ 40 رن بنا سکے۔

لیکن کھانے کے وقفے کے بعد یاسر شاہ نے ایک مرتبہ پھر انگلش کپتان کو کیچ آؤٹ کرا دیا۔ اس کے بعد جو روٹ راحت علی کی ایک باہر نکلتی ہوئی گیند پر وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ ہو گئے۔ وہ صرف چار رنز بنا سکے۔

اس سے قبل انگلینڈ نے دوسرے روز کا کھیل بغیر کسی نقصان کے چار رنز سے شروع کیا۔ پاکستان کو پہلی کامیابی جلد ہی حاصل ہوئی جب شعیب ملک نے معین علی کی وکٹ حاصل کی۔ معین 14 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

اس سے قبل پہلے روز پاکستان کی پوری ٹیم 234 کے سکور پر آؤٹ ہو گئی تھی۔