’کوئی بھی کھیل حکومتوں کی رائے تبدیل نہیں کر سکتا‘

انھوں نے کہا کہ سارک ممالک کا آپس میں کھیلنا اس خطے میں کرکٹ کے فروغ کے لیے بہت ضروری ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانھوں نے کہا کہ سارک ممالک کا آپس میں کھیلنا اس خطے میں کرکٹ کے فروغ کے لیے بہت ضروری ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شارجہ

بھارت کے عظیم بیٹسمین سنیل گاوسکر نے پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی کو دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی کامیابی سے مشروط کیا ہے۔

سنیل گاوسکر کا کہنا ہے کہ کسی بھی کھیل میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ حکومت کو اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور کرسکے۔

اتوار کو شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں سنیل گاوسکر نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت پہلا قدم ہے اور یہی کچھ پاک بھارت تعلقات میں بھی ضروری ہے۔

سنیل گاوسکر نے کہا کہ کسی کھیل میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ حکومت اپنی رائے تبدیل کرسکے لیکن جب دو ملک کھیلتے ہیں تو یہ دیکھاجاتا ہے کہ دونوں جانب سے شائقین کتنے جوش وخروش کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور دونوں طرف کے شائقین کے درمیان رابطہ بھی حکومتوں کو اشارہ دیتا ہے کہ ان کا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔

گاوسکر نے یہ بھی کہا کہ پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی کے لیے دونوں ملکوں کے مقبول سابق کرکٹرز کے بولنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ جو بھی فیصلہ ہونا ہے وہ حکومتوں نے کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سارک ممالک کا آپس میں کھیلنا اس خطے میں کرکٹ کے فروغ کے لیے بہت ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب یہ ممالک آپس میں کھیلیں گے تو اسی صورت میں برِصغیر کی کرکٹ مضبوط ہوگی اور اس کی سب سے بہتر جگہ ایشیا کپ ہے جس میں اس خطے کی تمام ٹیموں کو ایک ساتھ کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔

سنیل گاوسکر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ کو اس وقت زیادہ نقصان ہو رہا ہے کیونکہ وہاں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو رہی اور نوجوان نسل اپنے پسندیدہ کرکٹرز اور ہیروز کو اپنے سامنے کھیلتا ہوا نہیں دیکھ پا رہی ہے۔