’حکومت ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت سے روک سکتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریارخان کا خیال ہے کہ اگر پاک بھارت کرکٹ سیریز نہ ہوئی تو پاکستانی حکومت پاکستانی ٹیم کو آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کے لیے بھارت جانے سے روک سکتی ہے۔
یاد رہے کہ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی آئندہ سال گیارہ مارچ سے تین اپریل تک بھارت میں منعقد ہوگا۔
شہریار خان نے ہفتے کے روز دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں بی بی سی اردو سروس کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس معاملے میں پہلا درجہ یہ ہے کہ بات چیت کے تمام دروازے بند ہوجائیں اس کے بعد ہی وہ کوئی فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے ۔
بھارتی کرکٹ بورڈ نے ابھی تک نہ ہاں کی ہے نہ ناں بلکہ اس معاملے میں وہ تاخیر کر رہا ہے۔
شہریار خان نے کہا کہ انھوں نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ سے کہہ دیا ہے کہ اس ماہ کے آخر تک حتمی جواب دے دیا جائے۔جب وہ یہ دیکھ لیں گے کہ پاک بھارت سیریز نہیں ہوسکتی تو پھر انہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کی پالیسی کیا ہوگی۔
شہریارخان نے کہا کہ انہیں اپنی حکومت سے رجوع کرنا ہوگا اور اسے حالات کے بارے میں بتانا ہوگا۔
شہریارخان نے کہا کہ انہیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستانی حکومت ان سے یہی کہے گی کہ آپ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کے لیے بھارت نہ جائیں کیونکہ بھارت میں پاکستانیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
اس ضمن میں انھوں نے گلوکار غلام علی اور سابق وزیرخارجہ خورشید قصوری کی مثال دی۔

شہریار خان نے اس سوال پر کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت نہ کرنے کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟ کہا کہ جو بھی اثر ہو۔ممکن ہے کہ آئی سی سی پاکستان سے یہ کہہ دے کہ آپ اپنے میچز فورفیٹ ( دستبردار ) کردیں ۔وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں لیکن یہ سب کچھ اسی وقت ہوگا جب پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی کی بات چیت کا دروازہ بند ہوجائے گا۔
شہریارخان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک آزاد ادارہ ہے اس کے باوجود وہ حکومت اور دفترخارجہ کو کئی معاملات میں اعتماد میں لیتے ہیں اور ان کا حالیہ دورۂ بھارت بھی حکومت کی اجازت کے بعد ہوا تھا۔



