دبئی ٹیسٹ میچ کل سے، نظریں سپنرز پر

یاسر شاہ کی ٹیم میں واپسی کے لیے راحت علی کو جگہ چھوڑنی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیاسر شاہ کی ٹیم میں واپسی کے لیے راحت علی کو جگہ چھوڑنی ہے

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ جمعرات سے دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔

تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ ابوظہبی میں ڈرا ہوگیا تھا۔

میچ سے قبل انگلینڈ کے کپتان الیسٹر کک کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ سیریز جیتنے والا پہلا کپتان بننا چاہتے ہیں اور اگر ایسا ہوگیا تو یہ ان کے لیے بہت بڑی بات ہوگی۔

<link type="page"><caption> پاکستان بمقابلہ انگلینڈ 2015: خصوصی ضمیمہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/indepth/pak_england_cricket_series_ak" platform="highweb"/></link>

پاکستان کے نقطۂ نظر سے اہم بات یہ ہے کہ لیگ سپنر یاسر شاہ فٹ ہونے کے بعد یہ ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔

وہ کمر میں تکلیف کے سبب ابوظہبی ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔ ان کی ٹیم میں واپسی کے لیے راحت علی کو جگہ چھوڑنی ہے۔

ٹیم منیجمنٹ نے شان مسعود پر اعتماد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو ابوظہبی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں دو اور ایک رن پر جیمز اینڈرسن کے ہاتھوں بولڈ ہوئے تھے۔

ٹیم منیجمنٹ آف سپنر بلال آصف کو کھلانے کے بارے میں ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ انھیں ٹیم کے موجودہ کامبی نیشن میں کس طرح فٹ کیا جا سکتا ہے۔

بلال آصف اپنے بولنگ ایکشن کے بایو مکینک تجزیے کے بعد دبئی پہنچے ہیں۔جب تک ان کی رپورٹ نہیں آ جاتی وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں بولنگ کر سکتے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کو ایک بار پھر قابل اعتماد بیٹسمین اظہرعلی کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی جو اپنی ساس کے انتقال کی وجہ سے وطن واپس چلے گئے ہیں۔

وہ پیر میں انفیکشن کے سبب پہلا ٹیسٹ بھی نہیں کھیل سکے تھے۔ان کی جگہ شعیب ملک کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا جنھوں نے شاندار ڈبل سنچری سکور کی تھی۔

انگلینڈ کی ٹیم میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

دبئی کی وکٹ ابوظہبی کے مقابلے میں سپنرز کی زیادہ مدد کے لیے مشہور ہے۔اس میدان میں سب سے زیادہ 37 وکٹیں سعید اجمل نے حاصل کی ہیں۔

انگلینڈ کی ٹیم میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانگلینڈ کی ٹیم میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے

موجودہ ٹیم میں شامل ذوالفقار بابر 16 اور یاسر شاہ 14 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

بیٹنگ میں پاکستان کے یونس خان نے اس میدان میں چار سنچریوں اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے850 رنز بنائے ہیں۔

پاکستان نے دبئی میں کھیلے گئے آٹھ ٹیسٹ میچوں میں چار جیتے ہیں دو میں اسے شکست ہوئی ہے اور دو ڈرا ہوئے ہیں۔

پاکستان کی ان چار فتوحات میں دو انگلینڈ کے خلاف ہیں۔

2012 کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے دس وکٹ اور تیسرے ٹیسٹ میں 71 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔

امارات میں پاکستان کو شکست دینی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

انگلینڈ کے کپتان الیسٹر کک کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ سیریز جیتنے والا پہلا کپتان بننا چاہتے ہیں اور اگر ایسا ہوگیا تو یہ ان کے لیے بہت بڑی بات ہوگی۔

واضح رہے کہ پاکستانی ٹیم متحدہ عرب امارات میں اب تک کوئی ٹیسٹ سیریزنہیں ہاری ہے۔

الیسٹر کک نے کہا کہ بھارت اور پاکستان اپنی ہوم کنڈیشنز میں دو اچھی ٹیمیں ہیں اور وہ موجودہ سیریز کو اسی طرح کا سخت چیلنج سمجھتے ہیں جیسا کہ بھارت میں کھیلتے وقت تھا۔

الیسٹر کک نے کہا کہ یاسر شاہ کی واپسی سے پاکستانی بولنگ مضبوط ہوگی تاہم انگلینڈ کی ٹیم ابوظہبی میں بھی یاسر شاہ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار تھی۔

الیسٹر کک نے لیگ سپنر عادل رشید کے بارے میں کہا کہ ابوظہبی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے ان کا اصل ٹیلنٹ سامنے آیا اور ان میں بہت زیادہ اعتماد آیا۔ پہلی اننگز میں بھی انھوں نے بری بولنگ نہیں کی تھی ۔ہمارے سامنے ذوالفقار بابر کی مثال موجود ہے انہیں بھی پہلی اننگز میں طویل بولنگ کے باوجود وکٹیں نہیں مل سکی تھیں۔

عادل رشید کا ابوظہبی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے اصل ٹیلنٹ سامنے آیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنعادل رشید کا ابوظہبی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے اصل ٹیلنٹ سامنے آیا

کک نے کہا کہ عادل رشید یقیناً ابھی ناتجربہ کار ہیں لیکن انھیں پتہ ہے کہ کس طرح کی بولنگ کرنی ہے۔انھوں نے یارکشائر میں ایشلے جائلز کے ساتھ بہت محنت کی ہے ۔ انھیں عادل رشید کی کپتانی کرتے ہوئے انہیں مزا آیا۔

کک نےکہا کہ وہ جوز بٹلر کی وکٹ کیپنگ سے متاثر ہیں کیونکہ انھیں اپنی کیپنگ پر بلا کا اعتماد ہے اور اب وہ ٹیم پریکٹس میں کیپنگ کے ساتھ ساتھ دوسرے معاملات پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے ٹیم کو مفید مشورے دے رہے ہیں۔

کک نے ابوظہبی ٹیسٹ کم روشنی کے سبب ختم کیے جانے کے تناظر میں کہا کہ لائٹ کا یہ معاملہ وضاحت طلب ہے ۔