پرانی گیند کے ساتھ زیادہ موثر بولنگ کر سکتا ہوں: وہاب ریاض

’ٹیم منیجمنٹ بھی بھرپور اعتماد دیتی ہے جس کا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہوں‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’ٹیم منیجمنٹ بھی بھرپور اعتماد دیتی ہے جس کا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہوں‘
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ابوظہبی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر وہاب ریاض کا ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں کیا گیا سپیل آج بھی سب کو یاد ہے اور خود وہاب ریاض کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اس سپیل نے ان کی سوچ بدل دی ہے۔

وہاب ریاض نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اس سپیل نے ان میں خود اعتمادی پیدا کی ہے کہ وکٹ جیسی بھی ہو اور سامنے کوئی بھی بیٹسمین ہو ان میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اسے مشکل سے دوچار کر سکتے ہیں۔

وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ ٹیم کی انتظامیہ بھی انھیں بھرپور اعتماد دیتی ہے جس کا وہ پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

وہاب ریاض نے انگلینڈ کے خلاف ابوظہبی کی سپاٹ وکٹ پر 33 اووروں میں تین وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ ان کی گیند پر الیسٹر کک کا 173 کے سکور پر سرفراز احمد نے کیچ بھی گرایا۔

وہاب ریاض سے پوچھا گیا کہ کیا یہ وکٹ ایسی ہے جس پر فاسٹ بولر بولنگ کرنے کی خواہش کرے، تو ان کاجواب تھا کہ وکٹ واقعی سست ہے لیکن جب آپ اپنے ملک کے لیے کھیل رہے ہوتے ہیں تو وکٹ سے قطع نظر آپ کو اپنی بہترین کوشش کرنی پڑتی ہے اور اس اننگز میں بھی نہ صرف انھوں نے بلکہ ہربولر نے اچھی بولنگ کی ہے۔

وہاب ریاض اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ انھیں نئی گیند سے بولنگ کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ راحت علی اور عمران خان نئی گیند کے ساتھ بہت اچھے بولر ہیں اور وہ اچھی سوئنگ کرتے ہیں لہٰذا انہی کو موقع دینا چاہیے کہ وہ بیٹسمین کو غلطی پر مجبور کریں۔

انھوں نے کہا کہ چونکہ یہ وکٹ بھی سست ہے اس لیے بیٹسمینوں کو کھیلنے میں دشواری نہیں ہو رہی ہے کیونکہ انھیں گیند کو سمجھنے کا اچھا وقت مل رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پرانی گیند کے ساتھ وہ زیادہ موثر بولنگ کر سکتے ہیں۔

وہاب ریاض نے انگلینڈ کے کپتان الیسٹر کک کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے زبردست ثابت قدمی دکھائی اور بہت ہی اچھی اننگز کھیلی۔