ریکارڈ اور واپسی کا جشن ساتھ ساتھ

محمد حفیظ اور شعیب ملک نے دوسری وکٹ کی شراکت میں قیمتی 168 رنز کا اضافہ کیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمحمد حفیظ اور شعیب ملک نے دوسری وکٹ کی شراکت میں قیمتی 168 رنز کا اضافہ کیا
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ابوظہبی

یونس خان کا صبر آزما انتظار بالآخر ختم ہوا اور وہ پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بن گئے۔

یونس خان کے اس ریکارڈ کے علاوہ ابوظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن شعیب ملک نے پانچ سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کو سنچری سے یادگار بنا دیا۔

<link type="page"><caption> یونس خان کا ریکارڈ توڑ چھکا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/10/151013_younis_top_test_scorer_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> اوظہبی ٹیسٹ کے پہلے دن کی تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2015/10/151013_pak_eng_1st_test_day_one_pics_zh.shtml" platform="highweb"/></link>

وہ کھیل ختم ہونے پر 14 چوکوں کی مدد سے 124 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔ اسد شفیق 11 رنز پر کریز پر تھے اور پاکستان کا سکور 4 وکٹوں پر 286 رنز تھا۔

اظہرعلی اور یاسر شاہ کے نہ ہونے کا دکھ ابھی تازہ تھا کہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم نے صرف پانچ رنز پر شان مسعود کی وکٹ گنوائی جنھوں نے پالیکلے ٹیسٹ میں سنچری بناکر اس میچ میں اپنی جگہ مستحکم کر لی تھی اور ٹور سلیکشن کمیٹی کو احمد شہزاد پر محمد حفیظ کو فوقیت دینے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

محمد حفیظ اور شعیب ملک نے دوسری وکٹ کی شراکت میں قیمتی 168 رنز کا اضافہ کیا۔

یونس خان میانداد کے 8832 رنز سے آگے نکل گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیونس خان میانداد کے 8832 رنز سے آگے نکل گئے ہیں

محمد حفیظ اس میدان پر دوسری مرتبہ نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے۔

گذشتہ سال وہ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں96 رنز پر آؤٹ ہوئے تھے اس مرتبہ بین سٹوک کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوکر وہ صرف 2 رنز کی کمی سے نویں ٹیسٹ سنچری سے محروم ہوگئے۔

شعیب ملک نروس نائنٹیز سے خود کو نکال کر لے گئے اور ٹیسٹ کرکٹ میں تیسری مرتبہ تین ہندسوں کی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوگئے۔

یونس خان نے پرسکون انداز میں اننگز شروع کی تھی اور 15 کے انفرادی سکور پر معین علی کو چھکا لگا کر وہ میانداد کے 8832 رنز سے آگے نکل گئے۔

انگلینڈ نے کھیل کے آخری سیشن میں یونس خان اور مصباح الحق کی اہم وکٹیں حاصل کرکے سکون کا سانس لیا۔

یونس خان 38 رنز بناکر براڈ کی گیند پر کک کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

جیمز اینڈرسن کی بولنگ پر دو کیچ ڈراپ ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجیمز اینڈرسن کی بولنگ پر دو کیچ ڈراپ ہوئے

مصباح الحق تین کے انفرادی سکور پر اینڈرسن کی گیند پر وکٹ کیپر بٹلر کے ہاتھوں آؤٹ دیے گئے۔ امپائر پال رائفل نے انھیں ناٹ آؤٹ قرار دیا تھا لیکن انگلینڈ کے ریویو پر ٹی وی امپائر بھارت کے ایس روی نے انھیں آؤٹ قرار دیا۔

اس سیریز میں ہاٹ سپاٹ اور سنیکو میٹر کا استعمال نہیں ہورہا ہے اور ٹی وی امپائر کو صرف مائیک پر سنائی دینے والی آواز پر فیصلہ کرنا ہے ۔

انگلینڈ کو ملنے والی چاروں وکٹیں تیز بولرز کی مرہون منت تھیں۔ دونوں سپنرز معین علی اور عادل رشید کو مجموعی طور پر 36 اوورز کرانے کے بعد بھی کوئی وکٹ نہ مل سکی۔

انگلینڈ کی فیلڈنگ کامعیار ایک بار پھر پست رہا۔ این بیل نے پہلے محمد حفیظ کا سات رنز پر اور پھر اسد شفیق کا دس رنز پر سلپ میں کیچ ڈراپ کردیا۔ دونوں مرتبہ بدقسمت بولر جیمز اینڈرسن تھے۔

عادل رشید اپنا پہلا ٹیسٹ کھیل رہے ہیں۔