کریکی کا ماؤنٹ ایورسٹ کی مہم ترک کرنے کا فیصلہ

کریکی کی انگیاں ضائع ہونے کے باعث انھیں کوہ پیمائی میں بھی دشواری کا سامنا ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکریکی کی انگیاں ضائع ہونے کے باعث انھیں کوہ پیمائی میں بھی دشواری کا سامنا ہوتا ہے

ایک جاپانی کوہ پیما نے جن کی نو انگلیاں کوہ پیمائی کے دوران شدید سردی کے باعث ضائع ہوگئی تھیں، دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر نوبکازو کریکی نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’میں نے سخت کوشش کی، اپنی تمام تر توانائی کے استعمال کے باوجود برف میں چلنے میں بہت وقت لگ رہا تھا۔‘

<link type="page"><caption> زلزلے کے بعد ایورسٹ سر کرنا پہلے سے مشکل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/09/150912_everest_repair_crevasses_zh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ایورسٹ کے سفر کو ممکن بنانے کی کوشش</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/05/150504_nepal_everest_expedition_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ماؤنٹ ایورسٹ کے مددگار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/05/150504_nepal_everest_expedition_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

’مجھے احساس ہوگیا تھا کہ اگر میں چلتا رہا تو میں زندہ واپس نہیں آؤں گا۔‘

33 سالہ نوبکازو کریکی نے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کو ترک کرنے کا فیصلہ آخری مرحلے میں چوٹی سر کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد کیا۔

نیپال میں رواں سال اپریل میں تباہ کن زلزلے کے بعد کسی بھی شخص کی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی یہ پہلی کوشش تھی۔

نیپال میں رواں سال اپریل میں تباہ کن زلزلے کے بعد کسی بھی شخص کی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی یہ پہلی کوشش ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننیپال میں رواں سال اپریل میں تباہ کن زلزلے کے بعد کسی بھی شخص کی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی یہ پہلی کوشش ہے

گذشتہ چھ برسوں میں ان کی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی یہ پانچویں کوشش تھی۔

کریکی ایک ماہ پہلے نیپال پہنچے تھے، انھوں نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے لیے اسی راستے کا انتخاب کیا جو پہلی بار سنہ 1953 میں امنڈ ہیلری اور تن زنگ نورگے نے منتخب کیا تھا۔

کریکی سرد موسم میں تنہا اور کم سے کم ساز و سامان کے ساتھ پہاڑوں پر چڑھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کوہ پیمائی کی خالص ترین شکل ہے اور اس میں خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔‘

وہ گذشتہ چھ برسوں میں چار بار ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کر چکے ہیں تاہم چاروں بار انھوں نے اپنی یہ کوشش ادھوری چھوڑ دی۔

سنہ 2012 میں وہ دو روز تک 27 ہزار فٹ کی بلندی پر برف میں پھنسے رہے جہاں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، جس کے باعث ان کے ہاتھوں کی تمام انگیاں اور ایک انگوٹھا ضائع ہوگیا تھا۔

ان کی انگیاں ضائع ہونے کے باعث انھیں کوہ پیمائی میں بھی دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔