ثانیہ مرزا کی کھیل رتن کے لیے نامزدگی پر حکمِ امتناع

بھارت ریاست کرناٹک کی ہائی کورٹ نے لان ٹینس کی کھلاڑی ثانیہ مرزا کی راجیو گاندھی کھیل رتن ایوارڈ کے لیے نامزدگی کے خلاف حکمِ امتناع جاری کر دیا ہے۔
ہائی کورٹ نے پیرالمپك کھلاڑی اچین گريشا کی درخواست پر یہ حکم جاری کیا ہے۔
2012 کے لندن پیرالمپك کھیلوں میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے گريشا نے وزارت کھیل کی جانب سے ثانیہ مرزا کے نام کی سفارش کرنے کو چیلینج کیا ہے۔
وزارتِ کھیل نے ثانیہ مرزا کے ومبلڈن گرینڈ سلام مقابلوں میں ڈبلز کا خطاب جیتنے اور ڈبلر مقابلوں میں خواتین کی عالمی رینکنگ میں سرفہرست آنے کے بعد راجیو گاندھی کھیل رتن ایوارڈ کے لیے ثانیہ کے نام کی سفارش کی تھی۔
اس ایوارڈ کے لیے ثانیہ کا نام 2 جولائی 2015 کو تجویز کیا گیا تھا جبکہ مدعی کا کہنا ہے کہ اس ایوارڈ کے لیے نام تجویز کرنے کی آخری تاریخ اپریل 2015 میں تھی۔
عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے ثانیہ کی نامزدگی کو درخواست پر فیصلے تک معطل کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
ثانیہ مرزا ماضی میں بھی کئی تنازعات کا شکار رہی ہیں۔
انھیں ریاست تلنگانہ کا برانڈ ایمبیسیڈر بنائے جانے پر بھی تنازع کھڑا ہو چکا ہے۔
ثانیہ نے پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی اہلیہ ہیں اور اس رشتے کے تناظر میں تلنگانہ اسمبلی میں بی جے پی کے رہنما کے لکشمن نے ثانیہ مرزا کو پاکستان کی ’بہو‘ قرار دیا تھا اور ان کو یہ اعزاز دیے جانے پر سوال اٹھایا تھا۔



