ایتھلیٹکس کے عالمی مقابلوں میں فراح کا پہلا طلائی تمغہ

،تصویر کا ذریعہGetty
چین کے شہر بیجنگ میں جاری عالمی ایتھلیٹکس مقابلوں میں برطانیہ کے مو فراح نے دس ہزار میٹر دوڑ میں طلائی تمغہ جیت کر اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔
طلائی تمغہ جیتنے کے بعد مو فراح نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عزم کیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اپنے ملک کے لیے تمغے جیتتے رہیں۔
’میں چاہتا ہوں کہ مجھے ایسے شخص کے طور پر یاد رکھا جائے جس نے اپنے ملک کے لیے کچھ کیا ہو، اور بہت اچھا محسوس کرتے ہیں کہ میرے چاہنے والے بہت ہیں جو مجھے انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر پیغامات بھیجتے رہتے ہیں۔‘
مو فراح نے مزید کہا کہ ’یہاں ماحول بہت زبردست ہے اور یہ اہمیت کا حامل تھا کہ میں اچھا آغاز کروں، میں ان میں سب سے زیادہ عمر کا تھا اور امید کرتا ہوں کہ لوگ اس کو دیکھیں گے اور کہیں گے کہ میں یہ کر سکتا ہوں۔‘
سات سال پہلے اسی میدان میں 2008 اولمپک مقابلوں میں فراح پانچ ہزار میٹر ریس میں ناکام ہوگئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
تاہم 32 سالہ اولمپک چیمپیئن نے سنیچرکو منعقد ہونے والی ریس کا آخری چکر 54.15 سکینڈز میں طے کر کے کینیا کے تین حریف ایتھلیٹس کو پیچھے چھوڑ دیا۔
25 سینٹی گریڈ درجہ حرات اور ہوا میں 60 فیصد نمی کے باوجود فراح نے آخری چکر تقریباً 64 سیکنڈ میں طے کیا۔
دوسری جانب مشہور ایتھلیٹ اور اولمپک چیمپیئن یوسین بولٹ اور امریکہ کے متنازع ایتھلیٹ جسٹن گیلٹن نے سو میٹر کی دوڑ میں ابتدائی مرحلہ جیت کر اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کر لی ہے۔
اولمپک چیمپین یوسین بولٹ نے سست آغاز اور تیز ہوا کے باوجود 9.96سیکنڈز میں ساتویں ہیٹ جیت کر اتوار کو ہونے والے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔
یوسین بولٹ جو کہ تمام سیزن تکلیف میں مبتلا رہے ہیں تمام موسم گرما میں 100 میٹر دوڑ کو دس سیکنڈ میں دو بار مکمل کر پائے ہیں۔



