کمار سنگاکارا، صاف گو اور دیانت دار کرکٹر

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان کلائیو لائیڈ نے کہا تھا: ’جب تمہاری آنکھیں جواب دینے لگیں، تمہاری ٹانگوں میں دم نہ رہے اور تمہارے پرستار تم سے دور ہونے لگیں تو سمجھ لو کہ یہی وقت ہے کہ تمیں بھی چلے جانا چاہیے۔‘
لیکن سری لنکن بیٹسمین کمار سنگاکارا کے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ ان کے اعصاب نے ساتھ چھوڑا ہے اور نہ ہی رنز بنانے کی پیاس بجھی ہے اس کے باوجود انھوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کو اچھے وقت میں ختم کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ کر ڈالا۔
سنگاکارا عصر حاضر کے ایسے بیٹسمین ہیں جن کا کھیل سفید لباس میں اتنا ہی خوبصورت دکھائی دیا ہے جتنا رنگین پیرہن میں۔
سنگاکارا نے تینوں فارمیٹس کو اپنے اندر سموکر کرکٹ کھیلی اور خوب کھیلی۔
مستقل مزاجی سے رنز کرنے اور بڑی اننگز کھیلنے کی عادت نے انھیں سری لنکن کرکٹ کا سب سے کامیاب بیٹسمین بنا دیا ہے۔
سنگاکارا نے کھیل کے وقار کو صرف اپنے ملک کی طرف سے کھیلتے ہوئے ہی مقدم نہیں رکھا بلکہ کاؤنٹی اور دیگر پیشہ ورانہ لیگ میں بھی انھوں نے اپنے مکمل پروفیشنل ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔
وہ میدان میں حریف کھلاڑیوں کے لیے کبھی بھی پسندیدہ نہیں رہے کیونکہ انہوں نے کسی کے ساتھ کبھی رو رعایت نہیں کی لیکن جب بات ان کے عظیم کرکٹر ہونے کی آتی ہے تو غیروں نے بھی اپنوں کی طرح انھیں اس کی سند دینے میں ذرا بھی تامل نہیں کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سنگاکارا نے 15 سال پر محیط بین الاقوامی کیریئر میں اپنے دیرینہ دوست مہیلا جے وردھنے کے ساتھ مل کر سری لنکن بیٹنگ لائن کو ایسی قوت بنادیا جس میں حریف بولروں کے لیے مشکلات ہی مشکلات لکھی رہیں۔
سنگاکارا قانون کے طالب علم کی حیثیت سے کرکٹ میں آئے۔ اگرچہ کرکٹ نے انھیں وکالت کرنے کا موقع نہیں دیا لیکن وہ اس کھیل کی اقدار کی وکالت کرتے ضرور نظر آئے اور نوجوان کرکٹروں کے لیے رول ماڈل اور اس کھیل کے اہم سفیر کے طور پر پہچانے گئے۔
ایسا نہیں ہے کہ سنگاکارا نے بڑی خاموشی کے ساتھ اپنی تمام تر کرکٹ کھیل لی۔ کئی دوسرے کرکٹروں کی طرح انھیں بھی حریف کھلاڑیوں پر فقرے کسنے یعنی سلیجنگ کرنے میں مزا آتا ہے لیکن انھوں نے یہ عمل اتنی چالاکی سے کیا کہ کبھی کسی امپائر یا میچ ریفری کی گرفت میں نہیں آئے۔
سنگاکارا کی سب سے بڑی خوبی جو انھیں کئی دوسرے بڑے کرکٹروں سے منفرد ثابت کرتی ہے وہ ان کی صاف گوئی ہے۔
سنہ 2011 کے عالمی کپ کے موقع پر کولمبو میں ایک کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر انھوں نے کسی لگی لپٹی کے بغیر یہ بات کہہ دی کہ کرکٹرز میڈیا کے سامنے جو کچھ کہتے ہیں کہ مکمل طور پر سچ اور حقیقت کے قریب نہیں ہوتا۔ کرکٹروں کو اپنے کرکٹ بورڈ سے معاہدے کے سبب پہلے سے تیار شدہ جوابات دینے پڑتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سنگاکارا نے یہ بھی کہا کہ ہم کرکٹر بعض اوقات یہ غلط سوچ بھی رکھتے ہیں کہ ہم کوئی خاص چیز ہیں اور اس دنیا کے دوسرے لوگوں سے بالاتر ہیں۔
سنگاکارا کی دیانت دارانہ سوچ کی ایک اور جھلک ان کے ایم سی سی سپرٹ آف کرکٹ لیکچر میں بھی نظر آئی تھی جو انھوں نے لارڈز میں دیا تھا جس میں انھوں نے سری لنکن کرکٹ کے انتظامی ڈھانچے کی کمزوریوں اور بے ضابطگیوں کی کھل کر نشاندہی کی تھی۔
ان کی اس تقریر کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی لیکن سری لنکن حکومت کو یہ کڑوا سچ پسند نہیں آیا اور اس نے اس تقریر کے بارے میں تحقیقات کا حکم دے دیا تھا۔
سنگاکارا کی ریٹائرمنٹ پر حریف بولر یقیناً سکھ کا سانس لیں گے لیکن سری لنکن کرکٹ کے لیے یہ خلا پرکرنا آسان نہ ہوگا کیونکہ وہ پچھلے ہی سال مہیلا جے وردھنے کو بھی الوداع کہہ چکی ہے۔



