جیت کی کنجی سنگاکارا، جے وردھنے کے ہاتھ میں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
کولمبو ٹیسٹ میں کامیابی کے لیے سری لنکا کی تمام تر امیدیں اب مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا سے وابستہ ہیں۔
سری لنکن بیٹنگ کی سب سے قابل اعتماد جوڑی آخری بار کسی ٹیسٹ اننگز میں یکجا ہے اور اپنی ٹیم کی برتری 165 رنز تک لے جانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اس میچ کی چوتھی اننگز پاکستانی بیٹسمینوں نے کھیلنی ہے جس میں انہیں ایک بار پھر رنگانا ہیراتھ کا سامنا کرنا ہوگا۔
کمارسنگاکارا پہلی اننگز کی مایوسی کی کسر اس بار نکالنے کے موڈ میں ہیں اور وہ 54 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں۔
اپنی آخری ٹیسٹ اننگز میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے والے مہیلا جے وردھنے 49 رنز پر ان کے ساتھ موجود ہیں جبکہ سری لنکا نے تیسرے دن کا اختتام 177 رنز2 کھلاڑی آؤٹ پر کیا ۔
سری لنکا کی گرنے والی دونوں وکٹیں عبدالرحمن نے حاصل کیں جس کے بعد مہیلا جے وردھنے اور سنگاکارا تیسری وکٹ کی شراکت میں 98 رنز کا اضافہ کرچکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس اننگز کے دوران یہ دونوں ٹیسٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی جوڑی کی فہرست میں دوسرے نمبر پر بھی آگئے ہیں۔
ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ چھ ہزار نو سو بیس رنز بنانے والی جوڑی سچن تندولکر اور راہول ڈراوڈ کی ہے جبکہ اسی بھارتی جوڑی نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ بیس سنچری پارٹنرشپس بھی قائم کی ہیں۔
جے وردھنے اور سنگاکارا اپنی انیس ویں سنچری پارٹنرشپ سے صرف دو رنز کی دوری پر ہیں۔
پاکستانی ٹیم کی مشکل یہ ہے کہ اسے فاسٹ بولر جنید خان کی خدمات حاصل نہیں ہیں جو دھمیکا پرساد کا باؤنسر چہرے پر لگنے کے بعد ڈریسنگ روم میں اپنا توازن کھوبیٹھے اور انہیں فوری طور پر اسپتال لیجایا گیا جہاں ان کے ٹیسٹ ہوئے ہیں۔
اس سے قبل پہلا سیشن بھی دو کھلاڑیوں سرفراز احمد اور رنگانا ہیرتھ کے انفرادی سنگ میل کے سبب یاد رہے گا۔
وکٹ کیپر سرفراز احمد نے مشکل صورتحال میں اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کرکے پاکستانی اننگز کو تین سو بتیس کے باعزت اسکور تک پہنچانے کی ذمہ داری بخوبی نبھائی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یہ پانچ سال میں پاکستانی وکٹ کیپر کی پہلی ٹیسٹ سنچری بھی ہے اور یہ بھی پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی وکٹ کیپر نے سری لنکن سرزمین پر ٹیسٹ میچ میں سنچری اسکور کی ہے۔
رنگانا ہیرتھ نے ایک سو ستائیس رنز دے کر نو وکٹوں کی غیرمعمولی کارکردگی پر اننگز کا اختتام کیا۔
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بائیں ہاتھ کے کسی بولر نے ایک اننگز میں نو وکٹیں حاصل کی ہیں ۔اس سے قبل انگلینڈ کے جانی برگس نے جنوبی افریقہ کےخلاف اٹھارہ سی نواسی کے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کی ایک اننگز میں آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔
پاکستانی ٹیم نے دوسرے دن اننگز شروع کی تو سب کے ذہنوں میں یہی سوال تھا کہ سرفراز احمد سمیت پاکستانی لوئر آرڈر بیٹنگ رنگانا ہیراتھ کے چیلنج کا سامنا کتنی دیر کرسکے گی۔
سرفراز احمد نے عبدالرحمٰن کے ساتھ اسکور میں قیمتی چالیس رنز کا اضافہ کیا۔ انہوں نے وہاب ریاض کی وکٹ گرنے کے فوراً بعد ویلیگیدرا کی دو گیندوں پر چوکا اور چھکا لگاکر سنچری مکمل کی۔
سرفراز احمد جب بیٹنگ کے لیے آئے تھے تو پاکستان کا اسکور پانچ وکٹوں پر صرف ایک سو چالیس رنز تھا لیکن ان کی ذمہ دارانہ اننگز کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم سری لنکا پر بارہ رنز کی سبقت حاصل کرنے کی پوزیشن میں آسکی۔
رنگانا ہیراتھ ایک کے بعد ایک وکٹ پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے نو وکٹوں پر جاکر رکے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کی زد سے بچنے والی واحد وکٹ احمد شہزاد کی تھی۔
ہیراتھ ابتک تین اننگز میں اٹھارہ وکٹیں حاصل کرچکے ہیں اور دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سب سے زیادہ بائیس وکٹوں کا مرلی دھرن کا ریکارڈ اپنے نام کرنے کے لیے ان کے پاس سنہری موقع ہے۔
ہیراتھ نے دو ہزار چودہ کے کیلنڈر سال میں وکٹوں کی نصف سنچری بھی مکمل کرلی ہے۔
سری لنکن وکٹ کیپر ڈک ویلا نے بھی اپنی موجودگی کا احساس اننگز میں پانچ کیچز کے ساتھ دلایا۔



