قطر میں ورلڈ کپ کے لیے سیاسی دباؤ ڈالا گیا تھا: سیپ بلیٹر

،تصویر کا ذریعہGetty
فٹبال کی عالمی تنظیم ’فیفا‘ کے صدر سیپ بلیٹر کا کہنا ہے کہ سنہ 2018 اور 2022 کے عالمی مقابلوں کی میزبانی کے لیے رائے شماری سے پہلےفرانس اور جرمنی کے صدور نے تنظیم پر سیاسی دباؤ ڈالا تھا۔
سیپ بلیٹر نے الزام لگایا ہے کہ جب سنہ 2010 میں بالترتیب قطر اور روس میں عالمی مقابلے کرانے کے لیے رائے شماری کی جاری رہی تھی تو تنظیم پر فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی اور ان کے جرمن ہم منصب کرسچن ولف نے دباؤ ڈالا تھا۔
79 سالہ بلیٹر کے بقول ’ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ ورلڈ کپ قطر میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔‘
یاد رہے کہ سوئٹزر لینڈ میں ان دنوں تنظیم پر اس مبینہ سیاسی دباؤ کی بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
سیپ بلیٹر کا مزید کہنا تھا کہ ’جنھوں نے یہ فیصلے کیے (اب) انھیں اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔‘
واضح رہے کہ سیپ بلیٹر نے دو جون کو کہا تھا کہ وہ اس سال مارچ اور دسمبر کے دوران فیفا کے ایک غیر معمولی اجلاس میں تنظیم کی صدارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیں گے۔ ان کے اس اعلان کے بعد فیفا میں بدعنوانی کی تحقیقات کا آغاز ہو گیا تھا جس کے تحت امریکہ میں 18 افراد کو شاملِ تفتیش کر لیا گیا، تاہم سیپ بلیٹر کا کہنا تھا کہ انھیں ذاتی طور پر ’کسی بات کا خوف نہیں ہے۔‘
جرمنی کے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے سیپ بلیٹر کا مزید کہنا تھا کہ ’روس اور قطر کو عالمی کپ کی میزبانی دیے جانے کے فیصلوں سے پہلے دو جانب سے سیاسی مداخلت کی گئی، جناب سرکوزی اور جناب ولف نے رائے دہندگان پر اپنا دباؤ استعمال کیا تھا۔‘
اس الزام کے علاوہ سیپ بلیٹر نے انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس موقعے پر جرمنی کی فٹبال ایسوسی ایشن (ڈی ایف بی) کو بھی یہ تجویز کیا گیا تھا کہ جرمنی کے مالی مفادات کی خاطر وہ قطر کے حق میں ووٹ دے۔‘
’آپ ذرا جرمن کمپنیوں پر تو ایک نظر ڈالیں۔ جرمن ریلوے، جرمنی تعمیراتی کمپنی ہوچ ٹیو اور کئی دیگر جرمن کمپنیاں عالمی کپ کے فیصلے سے پہلے ہی قطر میں کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔‘
’میں تنظیم کے لیڈر ہونے کے اصول پر کام کرتا ہوں۔ اگر تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کی اکثریت چاہتی ہے کہ عالمی کپ قطر میں ہو، تو مجھے اکثریت کا فیصلہ قبول کرنا ہو گا۔‘
یاد رہے کہ سیپ بلیٹر کے اس بیان سے پہلے جرمن فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر تھیو زوانزگر ایک مضمون میں لکھ چکے ہیں کہ چانسلر ولف نے ان سے پوچھا تھا کہ قطر کے کیا امکانات ہیں، تاہم تھیو زوانزگر کا کہنا تھا کہ چانسلر نے دباؤ نہیں ڈالا تھا۔
سیپ بلیٹر اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ وہ چھٹی مرتبہ فیفا کی صدارت کا انتخاب لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔



