ریپ کے مجرم سابق ٹینس سٹار کو چھ سال قید

،تصویر کا ذریعہAP
ٹینس کے سابق گرینڈ سلام سٹار باب ہیوٹ کو جنوبی افریقہ کی ایک عدالت نے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں چھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
75سالہ باب ہیوٹ کو مارچ میں دو موقعوں پر ریپ اور ایک بار جنسی طور پر حراساں کرنے کا مرتکب پایا گيا۔
خیال رہے کہ یہ واقعات سنہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں پیش آئے جب باب لڑکیوں کو ٹینس کی کوچنگ دیا کرتے تھے۔
جج برٹ بام نے آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے ٹینس کھلاڑی کو کسی قسم کے اظہار تاسف کا مظاہرہ نہ کرنے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا۔
انھوں نے کہا کہ انصاف ہونا چاہیے خواہ وہ کسی معمر شخص کے خلاف ہی کیوں نہ جاتا ہو۔
ہیوٹ کے جنسی تشدد کی شکار ایک لڑکی نے عدالت میں سماعت کے دوران شہادت دی کہ ان کو جنسی تشدد کا اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ صرف 12 سال کی تھیں۔
جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تینوں متاثرین کی شہادتوں کے درمیان واضح مماثلت یہ بتاتی ہے کہ ہیوٹ نے دانستہ طور پر یہ حرکت کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پریٹوریا میں سماعت کے دوران ہیوٹ کی اہلیہ نے جج سے رحم کی اپیل کرتے ہوئے انھیں جیل کی سزا سے دور رکھنے کی استدعا کی تھی۔
جبکہ ہیوٹ نے کہا تھا کہ وہ خرابی صحت سے دوچار ہیں۔
جوہانسبرگ میں بی بی سی کی نامہ نگار نومسا ماسیکو نے بتایا کہ ٹینس سٹار کو جنوبی افریقہ کے وزارتِ انصاف میں جرمانہ ادا کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے جس کا جنسی تشدد کے خلاف مہم کو مالی تعاون فراہم کرنے میں استعمال کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق ڈبلز کے کئی گرینڈ سلام جیتنے والے ہیوٹ اس سزا کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کریں گے۔
خیال رہے کہ ہیوٹ کو ان الزامات کے بعد انٹرنیشنل ٹینس ہال آف فیم سے سنہ 2012 میں خارج کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے ابتدا میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی اور پھر بعد میں جنوبی افریقہ کے لیے کھیلتے رہے۔

،تصویر کا ذریعہAP



