’ایسا پہلوان جسے کوئی چھونا نہیں چاہتا تھا‘

بھارت کے متعدد غریب خاندان اپنے کم سے کم ایک بیٹے کو اس کھیل کی تربیت ضرور کرواتے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبھارت کے متعدد غریب خاندان اپنے کم سے کم ایک بیٹے کو اس کھیل کی تربیت ضرور کرواتے ہیں
    • مصنف, روپا جھا
    • عہدہ, بی بی سی ، مہاراشٹر

بھارت میں ُکشتی کے مقابلے کافی مقبول ہیں تاہم ریاست مہاراشٹر میں اس کھیل جسے دیسی کشتی یا اکھاڑے کی کشتی کہا جاتا ہے کے بارے میں ناقابلِ فراموش تصور پایا جاتا ہے۔

بھارت کے متعدد غریب خاندان اپنے کم سے کم ایک بیٹے کو اس کھیل کی تربیت ضرور کرواتے ہیں جن میں سے چند خوش قسمت خاندانوں کے لیے یہ تربیت غربت اور ذات پات کے فرق والی زندگی سے فرار کا ایک راستہ بھی فراہم کرتی ہے۔

اگرچہ جدید بھارت میں چند ایسے مقامات ہیں جہاں خواتین جا نہیں سکتیں لیکن مہاراشٹر کے دیہی علاقوں میں ایسی ایک ہی جگہ ہے ’تالم ریسلنگ۔‘

 امول ساتھی اکھاڑے میں کشتی کی تیاری کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن امول ساتھی اکھاڑے میں کشتی کی تیاری کرتے ہوئے

میں نے جیسے ہی صحن میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ تربیت حاصل کر رہے تھے تو ایک چھوٹے پہلون امول ساتھی نے مجھ سے کہا ’محترمہ، یہاں پر خواتین کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔‘

امول نے مجھے مزید سمجھاتے ہوئے کہا کہ خواتین کے یہاں آنے سے ’توجہ‘ منتشر ہو جاتی ہے۔

تاہم امول اور اکھاڑے کے مالک کے درمیان کچھ دیر بات چیت کرنے کے بعد ایک خاتون صحافی کے لیے رعایت مل گئی اور میں اندر اکھاڑے میں داخل ہو گئی۔

نوجوان لنگوٹی پہن کر اکھاڑے میں اترنے کی تیاری کر رہے تھے کہ اسی دوران امول ساتھی نے جلدی ورزنش کرنے کے لیے اٹھک بیٹھک کرنے کا عمل شروع کر دیا اور اس کے بعد وہ دوسروں کےساتھ اکھاڑے میں اتر گیا۔

ان سب کے جسم ناریل کا تیل ملنے کی وجہ سے چمک رہے تھے اور وہ اپنی رانوں اور بازوؤں پر ہاتھ مار کر شور پیدا کرتے ہوئے اگلی موو کے لیے غورو غوض کر رہے تھے اور اگلے ہی لمحے وہ سب اکھاڑے کی سرخ مٹی میں داغدار ہو گئے۔

امول ساتھی کا کہنا ہے کہ اکھاڑے کی زمین ایک عام سی زمین نہیں ہے بلکہ اس میں لیموں، دودھ، مکھن، کافور، ہلدی اور بہت سی اشیا شامل ہوتی ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنامول ساتھی کا کہنا ہے کہ اکھاڑے کی زمین ایک عام سی زمین نہیں ہے بلکہ اس میں لیموں، دودھ، مکھن، کافور، ہلدی اور بہت سی اشیا شامل ہوتی ہیں

امول ساتھی کا کہنا ہے کہ اکھاڑے کی زمین ایک عام سی زمین نہیں ہے بلکہ اس میں لیموں، دودھ، مکھن، کافور، ہلدی اور بہت سی اشیا شامل ہوتی ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا : ’ہم اکھاڑے میں مشق کرتے ہیں اور اس کی زمین ہمیں توانائی فراہم کرتی ہے اور ہمیں گندگی سے دور لے جاتی ہے۔‘

امول ساتھی کا تعلق بھارت کی نچلی ذات ’دلت‘ سے ہے جسے اس سے پہلے ’اچھوت‘ سمجھا جاتا تھا۔

امول ساتھی اب بھارت کے شہر کراد میں ایک جدید فلیٹ میں رہتے ہیں تاہم وہ ماصولی کے ایک گاؤں میں پلے بڑھے ہیں۔

امول ساتھی کشتی لڑتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنامول ساتھی کشتی لڑتے ہوئے

امول ساتھی کے والد کا کہنا تھا کہ ہمارے گاؤں میں تعلیم حاصل کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کو غربت کی زندگی میں قید نہیں کرنا چاہتے تھے اسی لیے انھوں نے اپنے بچوں کو اکھاڑے کی کشتی کی تربیت دلوائی۔

امول ساتھی نے بتایا کہ ایک دلت کے طور پر اس راستے پر چلتے ہوئے کامیابی حاصل کرنا بہت مشکل تھا۔

انھوں نے چائے پیتے ہوئے مجھے بتایا ’میں نے کبھی یہ سوچا نہیں تھا کہ میں کشتی لڑنے والا مشہور پہلوان بن جاؤں گا کیونکہ پہلوانوں کو اچھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم اس خرچے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔‘

امول ساتھی اپنے والدین کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنامول ساتھی اپنے والدین کے ساتھ

امول کا کہنا تھا ’انھیں اچھی طرح یاد ہے کہ جب وہ ورزش کے لیے جاتے تھے تو ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا تھا، مجھے ہمیشہ الگ بیٹھ کر دوپہر کا کھانا کھانا پڑتا تھا۔ ایک دلت ہونے کی وجہ سے لوگ میرے ساتھ کھیلنے سے انکار کر دیتے تھے کیونکہ کشتی کے کھیل میں دوسرے کو چھونا پڑتا ہے اور ایک دلت اونچی ذات کے لڑکے کو کیسے چھو سکتا ہے؟‘

امول ساتھی نے جلد ہی اپنی محنت اور دیسی کشتی سے شدید لگاؤ کے باعث اپنے مخالفین کا احترام حاصل کر لیا اور اب وہ ایک مشہور مقامی شخصیت ہیں جن کا آبائی گھر اب دیسی کشتیوں کے متعدد اعزازات سے بھرا پڑا ہے۔

بھارت کے دیہی علاقوں میں کسان فصلوں کی ناکامی کے بعد ادھار لیتے ہیں اور قرض واپس نہ کرنے کے باعث اکثر اوقات خود کشی بھی کر لیتے ہیں۔

ھارت کی ریاست مہاراشٹر میں روی گائیکود نامی ایک شخص نے ایک اندازے کے مطابق 50,000 غریب نوجوان پہلوانوں کو تربیت فراہم کرنے کے لیے ایک ادارہ قائم کیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنھارت کی ریاست مہاراشٹر میں روی گائیکود نامی ایک شخص نے ایک اندازے کے مطابق 50,000 غریب نوجوان پہلوانوں کو تربیت فراہم کرنے کے لیے ایک ادارہ قائم کیا ہے

اس بارے میں امول ساتھی بتاتے ہیں دیسی کشتی مشکل میں پھنسے ہوئے خاندان کے لیے لائف لائن ثابت ہو سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کے ہر خاندان کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ ان کا کم سے کم ایک بیٹا اس کھیل میں مہارت حاصل کرے۔

بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں روی گائیکود نامی ایک شخص نے ایک اندازے کے مطابق 50,000 غریب نوجوان پہلوانوں کو تربیت فراہم کرنے کے لیے ایک ادارہ قائم کیا ہے جس کا مقصد ان غریب نوجوانوں کو آنے والے وقت کا سٹار بنانا ہے۔

جب میں وہاں پہنچی اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو وہاں لڑکوں کا ایک گروہ نہا رہا تھا اور مجھے وہاں دیکھ کر چھپنے کے لیے بھاگ گئے۔

روی گائیکود کے ادارے میں تقربیاً 100 نوجوان جن کی عمریں 10 سے 30 سال کے درمیان تھیں رہتے ہیں۔

نامدیو بڑے فخر سے ’لنگوٹی‘ پہنتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکھاڑے کی کشتی ایک مہنگا کھیل ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشننامدیو بڑے فخر سے ’لنگوٹی‘ پہنتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکھاڑے کی کشتی ایک مہنگا کھیل ہے

روی گائیکود کے اس ادارے کو مشہور سابق پہلوان نامدیو بدرے چلاتے ہیں۔

نامدیو بڑے فخر سے ’لنگوٹی‘ پہنتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکھاڑے کی کشتی ایک مہنگا کھیل ہے اور صرف ایک بچے کے کھانے پر ہر ماہ 100 برطانوی پاؤنڈ خرچ ہوتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ایک دس سالہ بچے کے ایک وقت کا کھانا چاول، تین سیب، تین کیلے، دو ابلے انڈے، آدھا لیٹر دودھ اور ڈرائی فروٹ پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ تمام لوازمات صرف ایک ٹائم کے ناشتے کے لیے ہوتے ہیں۔

نامدیو کے مطابق ادارے کے بل قریبی علاقوں اور دیہات کے لوگ جو کشتی کے شوقین ہوتے ہیں ادا کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ان لڑکوں سے کوئی رقم نہیں لیتے کیونکہ زیادہ تر لڑکوں کا تعلق غریب گھرانوں سے ہوتا ہے اور وہ پیسے ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں۔