پاکستان میں چھ سال بعد بین الاقوامی کرکٹ

پاکستان کرکٹ بورڈ کو زمبابوے کے خلاف تمام تر میچز لاہور میں منعقد کرانے پر سخت تنقید کا بھی سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کرکٹ بورڈ کو زمبابوے کے خلاف تمام تر میچز لاہور میں منعقد کرانے پر سخت تنقید کا بھی سامنا ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

زمبابوے کی ٹیم 19 مئی کو پاکستان کے دورے پر پہنچے گی اور تین ون ڈے انٹرنیشنل اور دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلے گی۔

یہ تمام میچز قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے۔

دورے کے پہلے مرحلے میں دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل 22 اور 24 مئی کو کھیلے جائیں گے جس کے بعد 26، 29 اور 31 مئی کو ون ڈے انٹرنیشنل ہوں گے۔

زمبابوے کی ٹیم یکم جون کو وطن روانہ ہو جائے گی۔

پاکستانی ٹیم جوابی دورے پر اگست میں زمبابوے جائے گی۔

زمبابوے ٹیسٹ کھیلنے والی پہلی ٹیم ہے جو سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستان کا دورہ کرے گی۔

واضح رہے کہ تین مارچ 2009ء کو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان لاہور میں ہونے والے ٹیسٹ میچ کے موقع پر سری لنکن ٹیم پر اس وقت حملہ ہوا تھا جب وہ تیسرے دن کے کھیل کے لیے ہوٹل سے سٹیڈیم جا رہی تھی۔

اس واقعے کے بعد سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو سکی ہے اور پاکستانی ٹیم اپنی تمام تر انٹرنیشنل کرکٹ متحدہ عرب امارات میں کھیلنے پر مجبور ہے۔

قذافی سٹیڈیم میں زمبابوے کے دورے سے پہلے تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنقذافی سٹیڈیم میں زمبابوے کے دورے سے پہلے تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے کوششیں جاری رکھی ہیں اور اس ضمن میں افغانستان اور کینیا کی ٹیمیں یہاں آ چکی ہیں تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک کوئی بڑی ٹیم پاکستان نہیں آئے گی اس وقت تک یہاں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی راہ ہموار نہیں ہوگی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو زمبابوے کے خلاف تمام تر میچز لاہور میں منعقد کرانے پر سخت تنقید کا بھی سامنا ہے کہ جس شہر میں ہی سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملہ ہوا اسی شہر میں اب تمام میچز کرائے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ زمبابوے کے کراچی میں میچ کھیلنے پر تحفظات تھے اور پاکستان کرکٹ بورڈ نیشنل سٹیڈیم کے بجائے یہ میچز ساؤتھ اینڈ کلب (سابقہ ڈیفنس سٹیڈیم) میں کرانا چاہتا تھا لیکن وہاں میچز کرانے کے لیے آئی سی سی کی منظوری درکار ہے۔

کراچی کا نیشنل سٹیڈیم ملک میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کے سبب اس وقت بری حالت میں ہے اور اس کے انکلوژرز کی کرسیاں ٹوٹ چکی ہیں اور سٹینڈز کی چھتوں میں سراخ پڑ چکے ہیں حالانکہ بڑی بڑی تنخواہوں پر سٹاف اس سٹیڈیم میں موجود ہے۔