ورلڈ کپ کے میزبان فائنل میں مدمقابل

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، میلبرن
کرکٹ کے 11ویں ورلڈ کپ کے مشترکہ میزبان آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ہی اب عالمی اعزاز حاصل کرنے کے لیے آمنے سامنے آ رہے ہیں۔
ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان فائنل اتوار کے روز میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جا رہا ہے۔
یہ آسٹریلیا کا ساتواں فائنل ہے جبکہ وہ گذشتہ چھ فائنلز میں سے چار مرتبہ فاتح رہا ہے۔
آسٹریلیا نے اس سے قبل 1987، 1999، 2003 اور2007 میں عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ 1975اور 1996 کے فائنل میں اسے ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔
نیوزی لینڈ کا یہ پہلا ورلڈ کپ فائنل ہے۔ اس سے قبل اس نے عالمی مقابلے کے چھ سیمی فائنل کھیلے ہیں لیکن ہر بار اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ عالمی کپ کی تاریخ میں چھٹا موقع ہے کہ ایک ہی پول سے تعلق رکھنے والی ٹیمیں فائنل میں بھی مدمقابل ہورہی ہیں۔
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں عالمی کپ کے پول اے میں شامل تھیں ۔ دونوں کے درمیان کھیلا جانے والا پول میچ نیوزی لینڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے جیتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنے تمام آٹھ میچز ہوم گراؤنڈ میں کھیلنے کے بعد پہلی بار آسٹریلیا پہنچی ہے۔ وہ یہ تمام آٹھ میچز جیت کر اس عالمی کپ کی واحد ناقابل شکست ٹیم بھی ہے۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم بیٹنگ میں ایک بڑے سکور کے لیے برینڈن میککلم، مارٹن گپٹل، راس ٹیلر، کین ولیم سن اور کورے اینڈرسن پر انحصار کرتی ہے جبکہ تیز بولنگ اس کی سب سے بڑی قوت ہے۔
سپن بولنگ میں اس کے پاس ڈینیئل ویٹوری جیسے تجربہ کار سپنر موجود ہیں۔
مارٹن گپٹل اس عالمی کپ کی سب سے بڑی اننگز 237 ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیل چکے ہیں جبکہ ٹم ساؤدی نے انگلینڈ کے خلاف 33 رنز کے عوض 7 وکٹوں کی کارکردگی دکھائی تھی جو اس عالمی کپ میں اب تک کی بہترین انفرادی بولنگ ہے۔
نیوزی لینڈ کے ٹرینٹ بولٹ 21 وکٹوں کے ساتھ سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر ہیں جبکہ آسٹریلیا کے مچل اسٹارک 20 وکٹوں کےساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
آسٹریلوی بیٹسمینوں میں گلین میکسویل 324 رنز کے ساتھ قابل ذکر کارکردگی دکھا چکے ہیں۔



