دھونی کو ورلڈ کپ جیتنا آتا ہے: مائیکل وان

،تصویر کا ذریعہAFP
نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان منگل کو ہونے والے شاندار سیمی فائنل کے بعد کرکٹ کے شائقین کی نگاہیں اب سڈنی کی جانب مرکوز ہیں جہاں جمعرات کو دوسرے سیمی فائنل میں دفاعی چیمپیئن بھارت اور میزبان آسٹریلیا کے درمیان مقابلہ ہے۔
کرکٹ کے ماہرین نے بھی اپنی اپنی پسند کی ٹیمیں منتخب کر لی ہیں۔
جہاں انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے ہندوستان کو فیورٹ قرار دیا ہے، وہیں سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر بریٹ لی کا خیال ہے کہ میزبان آسٹریلیا بھارت کو چت کر دے گا۔
’سہرا دھونی کے سر‘

،تصویر کا ذریعہAFP
مائیکل وان کا خیال ہے کہ مہندر سنگھ دھونی کی منظم کپتانی ہندوستان کو اس اہم میچ میں فتح سے ہمکنار کر سکتی ہے۔
وان کے مطابق آسٹریلیا میں ٹیسٹ اور سہ رخی ون ڈے سیریز میں شکست کے بعد بھی بھارتی ٹیم نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کا سہرا کپتان دھونی کو جاتا ہے۔
وان نے کہا: ’دھونی کو ورلڈ کپ جیتنا آتا ہے اور وہ پہلے بھی یہ کام کر چکے ہیں۔ سہ رخی سیریز کے ختم ہوتے ہی انھوں نے ٹیم کی فکر اور کھلاڑیوں میں تبدیلی رونما کی۔‘
اس میچ کے سڈنی میں ہونے کو مائیکل وان بھارت کے لیے مفید تسلیم کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
وہ کہتے ہیں: ’بھارت کو آسٹریلیا میں کسی بھی جگہ کھیلنے کا اختیار ملتا تو وہ سڈنی کی پچ کو ہی منتخب کرتے کیونکہ یہاں گیند سپن بھی ہوتی ہے۔‘
لیکن بریٹ لی آسٹریلیا کو ہی جیت کا دعویدار تسلیم کرتے ہیں۔
ان کے مطابق آسٹریلوي ٹیم کے پاس ہر وہ ہتھیار ہے جس کے استعمال سے وہ اس میچ کو جیت سکتی ہے۔
لی نے کہا: ’وارنر اور فنچ کے بعد سٹیون سمتھ، مائیکل کلارک اور شین واٹسن۔ میرے خیال میں یہ بہت متوازن بیٹنگ ہے جس کی وجہ سے فاسٹ بالروں کو کھل کر گیند پھینکنے کی آزادی ملتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اگرچہ بریٹ لی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ورلڈ کپ میں بھارت کے فاسٹ بولروں نے اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کر دیا ہے۔
انھوں نے کہا: ’شامي، امیش یادو اور موہت نے زبردست بالنگ کی ہے، بطور خاص محمد شامي نے۔ میں نے خود شامي کے ساتھ کچھ سال کرکٹ کھیلی ہے۔ وہ بہت محنتی ہیں۔‘
سڈنی میں ہونے والا یہ ڈے اینڈ نائٹ میچ جمعرات کو بھارتی وقت کے مطابق صبح نو بجے شروع ہو گا۔



