ورلڈ کپ میں پاکستان کا سفر تمام، آسٹریلیا سیمی فائنل میں

واٹسن اور میکسویل نے اننگز کے آخر میں جارحانہ انداز اپنایا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنواٹسن اور میکسویل نے اننگز کے آخر میں جارحانہ انداز اپنایا

کرکٹ کے 11ویں ورلڈ کپ مقابلوں کے تیسرے کوارٹر فائنل میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔

آسٹریلیا نے 214 رنز کا مطلوبہ ہدف 34ویں اوور میں حاصل کر لیا۔

سیمی فائنل میں آسٹریلوی ٹیم 26 مارچ کو سڈنی میں دفاعی چیمپیئن بھارت کا سامنا کرے گی جو اب تک ٹورنامنٹ میں ناقابلِ شکست ہے۔

<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/live/cricket/31428523" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا: تصاویر میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2015/03/150320_cwc_pics_pak_aus_3rd_qf_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

ایک آسان ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی جانب سے سٹیون سمتھ اور شین واٹسن نے نصف سنچریاں بنا کر اپنی ٹیم کو فتح دلوا دی۔

سمتھ 65 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ واٹسن نے 64 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

آسٹریلوی اننگز کے آخر میں گلین میکسویل نے جارحانہ بلے بازی کی اور 29 گیندوں پر پانچ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 44 رنز بنا ڈالے۔

سٹیون سمتھ نے ذمہ دارانہ انداز میں کھیلتے ہوئے نصف سنچری بنائی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسٹیون سمتھ نے ذمہ دارانہ انداز میں کھیلتے ہوئے نصف سنچری بنائی

پاکستان کے لیے وہاب ریاض نے دو وکٹیں لیں جبکہ سہیل خان اور احسان عادل نے ایک ایک وکٹ لی۔

اس سے قبل ایڈیلیڈ میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستانی بیٹنگ ایک بار پھر نہ چل سکی اور پوری ٹیم 50ویں اوور میں 213 رن بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تو پاکستانی بلے باز ایک مرتبہ پھر اچھے آغاز کو بڑے سکور میں تبدیل کرنے میں ناکام نظر آئے۔

گذشتہ دو میچوں میں پاکستان کی فتح میں کلیدی کردار ادا کرنے والے سرفراز احمد اس بار دس رنز ہی بنا سکے۔

حارث سہیل پاکستان کی جانب سے ٹاپ سکورر رہے جنھوں نے 41 رنز بنائے۔ انھوں نے ابتدائی نقصان کے بعد مصباح الحق کے ساتھ مل کر تیسری وکٹ لیے 73 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔

حارث سہیل نے پراعتماد انداز میں بلے بازی کی لیکن بڑا سکور نہ کر سکے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحارث سہیل نے پراعتماد انداز میں بلے بازی کی لیکن بڑا سکور نہ کر سکے

مصباح الحق نے 34، صہیب مقصود نے 29، شاہد آفریدی نے 15 گیندوں پر 23 اور عمر اکمل نے 20 رنز کی اننگز کھیلیں تاہم جب ٹیم کو وکٹ پر ان کی ضرورت تھی، تبھی یہ سب غیر ضروری شاٹس کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوئے۔

آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک کا پیٹ کمنز کی جگہ جوش ہیزل وڈ کو کھلانے کا فیصلہ درست ثابت ہوا اور ہیزل وڈ چار وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے۔

ان کے علاوہ مچل سٹارک نے دو وکٹیں لیں اور اس ورلڈ کپ میں اپنی وکٹوں کی تعداد 18 کر لی اور ایک بار پھر ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بن گئے۔

سٹارک کے علاوہ گلین میکسویل نے بھی دو وکٹیں لیں جبکہ مچل جانسن اور جیمز فاکنر نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

کوارٹر فائنل سے پہلے پول مقابلوں میں آسٹریلیا پول اے میں دوسرے نمبر پر رہا تھا۔ اس نے اپنے پول میں چھ میں سے چار میچ جیتے اور وہ صرف نیوزی لینڈ سے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے ہارا تھا۔

جوش ہیزل وڈ نے چار وکٹیں لے کر اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا
،تصویر کا کیپشنجوش ہیزل وڈ نے چار وکٹیں لے کر اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا

دوسری طرف پاکستان نے جہاں ابتدائی دو میچوں میں بھارت اور ویسٹ انڈیز سے شکست کھائی وہیں یہ ٹیم اس کے بعد سے لگاتار چار میچ جیت کر کوارٹر فائنل میں پہنچی تھی۔

آسٹریلیا ماضی میں چار مرتبہ جبکہ پاکستان ایک بار یہ ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب رہا ہے اور پاکستان کی واحد فتح 1992 میں تھی اور اس وقت بھی ٹورنامنٹ کی میزبانی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ہی کر رہے تھے۔

اس میچ سے قبل ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستان اور آسٹریلیا ماضی میں آٹھ بار مدِمقابل آ چکے تھے جن میں سے دونوں نے چار چار میچ جیتے تھے

تاہم پاکستان سنہ 2005 کے بعد سے آسٹریلیا کے خلاف اس کی سرزمین پر کوئی میچ نہیں جیت پایا ہے۔