بیٹسمینوں کی بگڑی بولرز نے بنادی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، آکلینڈ
بولرز کی شاندار بولنگ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ورلڈ کپ کے ایک اہم میچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف 29 رنز کی انتہائی اہم کامیابی سے ہمکنار کردیا۔
عالمی کپ کے مقابلوں میں یہ پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف پہلی جیت بھی ہے۔
بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی نے پاکستانی ٹیم کو صرف 222 رنز بنانے کا موقع دیا لیکن پیس بیٹری ایسی چارج ہوئی کہ اس نے جنوبی افریقہ کو تمام وقت بیک فٹ پر ہی رکھا اور ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت دیے گئے 232 رنز کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو 202 رنز پر آؤٹ کردیا۔
وکٹ کیپر سرفراز احمد اس جیت کے ہیرو تھے جنھوں نے49 رنز کی جارحانہ بیٹنگ کے بعداننگز میں چھ کیچز کا عالمی ریکارڈ بھی برابر کردیا۔
محمد عرفان ۔ راحت علی اور وہاب ریاض نے تین تین وکٹوں کی مساوی تقسیم کےساتھ اپنے کپتان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی ٹیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اے بی ڈی ویلیئرز تھے جو اپنی عمدہ بیٹنگ سے جنوبی افریقہ کو جیت کے قریب لے آئے تھے لیکن 77 رنز کے انفرادی سکور پر سہیل خان کی گیند پر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ کے بعد جنوبی افریقہ کی آخری امید بھی دم توڑگئی۔
پاکستانی بیٹسمینوں کوآؤٹ کرنے کے لیے کسی منصوبہ بندی یا کوئی جال بچھانے کی ضرورت نہیں پڑتی وہ خود ہی اپنے پیروں پر کلہاڑی مار دیتے ہیں ۔
سرفراز احمد نے جس طرح اننگز کی ابتدا کی تھی اس سے امید بندھی تھی کہ آج رنز کی برسات ہوگی لیکن شاٹس کے غلط انتخاب نے بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا ۔
پاکستانی ٹیم دو تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری ۔ ایڑی کی تکلیف میں مبتلا حارث سہیل نے یونس خان کے لیے جگہ خالی کی اور آؤٹ آف فارم ناصرجمشید کوباہر بٹھاکر ٹورنگ سلیکشن کمیٹی نے بالآخر سرفراز احمد کو موقع دے ہی دیا جن کے بارے میں چند روز قبل ہی کوچ اس دعوے کے ساتھ عدم اعتماد ظاہر کرچکے تھے کہ چونکہ ان کی تکنیک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی کنڈیشنز کے لحاظ سے درست نہیں لہذا ان کا کریئر داؤ پر نہیں لگایا جاسکتا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سرفراز احمد نے جارحانہ انداز میں جنوبی افریقی بولنگ پر حاوی ہوکر ٹیم کو ایک بڑے سکور تک پہنچنے کا حوصلہ دیا ساتھ ہی انھوں نے اپنے کوچ اور کپتان کو بھی یہ باور کرادیا کہ انھیں باہر بٹھاکر وہ بہت بڑی غلطی کررہے تھے۔
سرفراز احمد نے پانچ چوکوں اور جے پی ڈومینی کے ایک ہی اوور میں لگائے گئے تین چھکوں کی مدد سے49 رنز بنائے لیکن دوسرا رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہوکر انھوں نے اپنی وکٹ خود گنوائی۔
احمد شہزاد ڈیل سٹین کے غیرمعمولی کیچ کی بھینٹ چڑھے اور اس کے بعد ہر بیٹسمین کریز پر آتا گیا اور اپنی وکٹ گنواکر جاتا رہا۔
یونس خان نے کور پر روسو کو کیچ کی پریکٹس کرائی۔
صہیب مقصود نے بھی بیک ورڈ پوائنٹ پر روسو کو آسان کیچ تھمایا۔ عمراکمل مڈ وکٹ پر اے بی ڈی ویلیئرز کے ہاتھوں دبوچے گئے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
عمراکمل اور صہیب مقصود کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس ورلڈ کپ میں انھوں نے کچھ بھی نہ کیا تب بھی ان کی جگہ لینے والا کوئی نہیں۔
شاہد آفریدی نے ڈیل سٹین کو چھکا مارنے کے بعد اگلی ہی گیند پر اپنی وکٹ انھیں دے دی۔
مصباح الحق نے اس عالمی کپ کے پانچویں میچ میں اپنی چوتھی نصف سنچری سکور کرنے کے ساتھ ساتھ ون ڈے انٹرنیشنل میں پانچ ہزار رنز بھی مکمل کرلیے لیکن آخری اوورز میں وہ وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور ڈیل سٹین کی اننگز میں تیسری وکٹ بن گئے۔



