نیوزی لینڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد آسٹریلیا کو ہرا دیا

میککلم نے 21 گیندوں پر سات چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمیککلم نے 21 گیندوں پر سات چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کی۔

کرکٹ کے 11ویں عالمی کپ کے پول اے میں سنیچر کو ٹورنامنٹ کی مشترکہ میزبان ٹیمیں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ مدِمقابل آئیں۔

آک لینڈ میں کھیلے جانے والے میچ میں نیوزی لینڈ نے آسٹریلیا کو دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے شکست دے دی۔

<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/88565" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> آسٹریلیا بمقابلہ نیوزی لینڈ: تصاویر میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2015/02/150228_cwc_aus_nz_pics_gallery_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

اس فتح کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پول اے میں اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

ٹورنامنٹ میں جاری چلن کے برعکس یہ میچ ایک ’لو سکورنگ‘ میچ رہا۔

ایڈن پارک میں آسٹریلیا نے پہلے کھیلتے ہوئے 152 رنز بنائے اور نیوزی لینڈ نے مطلوبہ ہدف 24ویں اوور میں نو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

نیوزی لینڈ کی فتح میں اہم کردار پہلے بولر ٹرینٹ بولٹ اور پھر بلے بازوں برینڈن میککلم اور کین ولیمسن نے ادا کیا۔

کین ولیمسن نے 45 رنز کی اہم اور فتح گر اننگز کھیلی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکین ولیمسن نے 45 رنز کی اہم اور فتح گر اننگز کھیلی

میککلم نے جہاں اننگز کے آغاز میں 21 گیندوں پر سات چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کی وہیں ولیمسن نے چار وکٹوں کے نقصان کے بعد ذمہ دارانہ انداز میں کھیلتے ہوئے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کروایا۔

برینڈن میککلم 50 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کی یہ نصف سنچری ورلڈ کپ کی تاریخ کی تیسری تیز ترین نصف سنچری تھی۔ وہ اسی ٹورنامنٹ میں 18 گیندوں پر ورلڈ کپ کی تاریخ کی تیز ترین نصف سنچری بھی بنا چکے ہیں۔

8 اوور میں 78 رنز بنانے کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم اس وقت مشکلات کا شکار ہوئی جبکہ یکے بعد دیگرے اس کی تین وکٹیں گر گئیں۔

تاہم اس موقع پر کین ولیمسن نے کورے اینڈرسن کے ساتھ مل کر 52 رنز کی اہم شراکت قائم کی اور ٹیم کو مشکلات سے نکالا۔

ولیمسن اننگز کے آخر تک کریز پر موجود رہے اور 45 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

مچل سٹارک نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے نو اوورز میں 28 رنز کے عوض چھ وکٹیں لیں۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمچل سٹارک نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے نو اوورز میں 28 رنز کے عوض چھ وکٹیں لیں۔

آسٹریلیا کی جانب سے فاسٹ بولر مچل سٹارک نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے نو اوورز میں 28 رنز کے عوض چھ وکٹیں لیں۔

نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کے پاس سٹارک کی یارکرز کا کوئی جواب نہ تھا اور انھوں نے چھ میں چار وکٹیں بلے بازوں کو کلین بولڈ کر کے حاصل کیں۔

بولٹ کی تباہ کن بولنگ

اس سے قبل ایڈن پارک میں آسٹریلوی ٹیم پہلے کھیلتے ہوئے صرف 151 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

ایک موقع پر آسٹریلیا کا صرف ایک کھلاڑی 80 رنز پر آؤٹ ہوا تھا لیکن پھر ٹرینٹ بولٹ نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بلے بازوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا۔

بولٹ نے 27 رنز کے عوض پانچ وکٹیں لیں جبکہ آسٹریلیا کے چھ بلے بازوں کا سکور دوہرے ہندسوں میں بھی نہ پہنچ سکا۔

آسٹریلیا کی جانب سے ایرون فنچ اور ڈیوڈ وارنر نے ٹیم کو 30 رنز کا آغاز دیا جس کے بعد دوسری وکٹ کے لیے وارنر نے شین واٹسن کے ساتھ مل کر مزید 50 رنز بنائے۔

ٹرینٹ بولٹ نے آسٹریلوی مڈل آرڈر کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں دیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنٹرینٹ بولٹ نے آسٹریلوی مڈل آرڈر کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں دیا

اس کے بعد آسٹریلوی وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ایک وقت وہ آیا کہ آسٹریلیا کے نو کھلاڑی صرف 106 رنز پر پویلین واپس جا چکے تھے۔

تاہم اس موقع پر بریڈ ہیڈن نے 43 رنز کی اہم اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کی۔

انھوں نے پیٹ کمنز کے ساتھ مل کر آخری وکٹ کے لیے 45 رنز کی شراکت قائم کی۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے بولٹ کی پانچ وکٹوں کے علاوہ ٹم ساؤدی اور ڈینیئل ویٹوری نے دو، دو اور کوری اینڈرسن نے ایک وکٹ لی۔

ٹورنامنٹ میں اب تک دونوں ٹیمیں اپنے تمام میچ جیت چکی ہیں اور اس میچ کو پول اے میں سرِفہرست رہنے والی ٹیم کے انتخاب کا عمل قرار دیا گیا ہے۔