بھارت کو ورلڈ کپ میں ہرانے کا خواب، خواب ہی رہا

محمد شامی نے چار وکٹیں لے کر بھارت کی فتح میں اہم کردار ادا کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمحمد شامی نے چار وکٹیں لے کر بھارت کی فتح میں اہم کردار ادا کیا

11ویں کرکٹ ورلڈ کپ میں دفاعی چیمپیئن بھارت نے اپنے پہلے میچ میں روایتی حریف پاکستان کو 76 رنز سے شکست دے دی ہے۔

پاکستان آج تک اس ٹورنامنٹ میں بھارت کو ہرانے میں ناکام رہا ہے اور یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں لگاتار چھٹا موقع ہے کہ بھارتی ٹیم پاکستان کے خلاف فتح یاب ہوئی ہے۔

ایڈیلیڈ میں اتوار کو کھیلے جانے والے میچ میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا اور کوہلی، دھون اور رائنا کی عمدہ اننگز کی بدولت 300 رنز بنائے۔

<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://m.bbc.com/sport/cricket/scorecard/88549" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> کرکٹ ورلڈ کپ کا دوسرا دن: تصاویر میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2015/02/150215_cwc_day_two_pics_gallery_mb" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ورلڈ کپ 2015 پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/indepth/cricket_world_cup_2015_special_fz" platform="highweb"/></link>

ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بلے باز اچھی شراکتیں قائم کرنے میں ناکام رہے اور پوری ٹیم 47 اوورز میں 224 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

اس میچ میں پاکستان نے اپنے تجربہ کار بلے باز یونس خان سے اننگز شروع کروائی لیکن یہ تجربہ ناکام رہا اور وہ صرف چھ رنز بنا کر محمد شامی کی گیند پر کیچ ہوگئے۔

دوسری وکٹ کے لیے حارث سہیل اور احمد شہزاد کے درمیان 68 رنز کی شراکت ہوئی۔

کوہلی ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف سنچری کرنے والے پہلے بھارتی بلے باز بن گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکوہلی ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف سنچری کرنے والے پہلے بھارتی بلے باز بن گئے ہیں۔

احمد شہزاد نے 47 رنز کی اننگز کھیلی لیکن اس سکور تک پہنچنے میں انھوں نے 73 گیندیں استعمال کیں۔

ان دونوں کے آؤٹ ہونے کے بعد بقیہ بلے بازوں میں سے مصباح الحق کے سوا تمام ناکام رہے۔

پاکستانی کپتان نے ایک روزہ کرکٹ میں ایک اور نصف سنچری بنائی لیکن ٹیم کو فتح نہ دلوا سکے اور نو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 74 رنز بنا کر شامی کی چوتھی وکٹ بنے۔

محمد شامی سب سے کامیاب بھارتی بولر رہے جنھوں نے 35 رنز دے کر چار وکٹیں لیں۔ شامی کے علاوہ امیش یادو نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

کوہلی کی سنچری

اس سے قبل بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا اور مقررہ 50 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 300 رنز بنائے۔

بھارتی اننگز کی خاص بات ویراٹ کوہلی کی شاندار سنچری تھی۔ یہ ان کی ایک روزہ کرکٹ میں 22ویں سنچری تھی۔

سہیل خان نے پاکستان کے لیے پانچ وکٹیں حاصل کیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسہیل خان نے پاکستان کے لیے پانچ وکٹیں حاصل کیں

وہ ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف سنچری کرنے والے بھی پہلے بھارتی بلے باز بن گئے ہیں اور 107 رنز بنانے کے بعد سہیل خان کی وکٹ بنے۔

انھوں نے پہلے دھون اور پھر رائنا کے ساتھ مل کر 100 رنز سے زیادہ کی شراکتیں قائم کیں جنھوں نے نصف سنچریاں بنائیں اور بالترتیب 73 اور 74 رنز کی اننگز کھیلی۔

پاکستان نے کوہلی کو آؤٹ کرنے کے دو مواقع ضائع کیے۔ پہلے 11ویں اوور میں یاسر شاہ شاہد آفریدی کی گیند پر ایک مشکل کیچ نہ پکڑ سکے اور پھر 32ویں اوور میں عمر اکمل نے وکٹوں کے پیچھے ان کا کیچ چھوڑ دیا۔

ایک موقع پر لگ رہا تھا کہ بھارت 330 سے زیادہ رنز بنا لے گا لیکن اننگز کے آخری پانچ اوورز میں سہیل خان اور وہاب ریاض نے عمدہ بولنگ کی اور صرف 27 رنز ہی دیے۔

سہیل خان پانچ وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب پاکستانی بولر رہے جبکہ وہاب ریاض نے ایک وکٹ لی۔

اس میچ کو ورلڈ کپ کا سب سے بڑا میچ قرار دیا جا رہا ہے اور سٹیڈیم میں موجود ساڑھے 41 ہزار افراد کے علاوہ اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ افراد نے یہ مقابلہ دیکھا۔

ایڈیلیڈ میں دونوں ممالک کے شائقین کی بڑی تعداد جمع ہے جبکہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ افراد نے یہ مقابلہ دیکھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایڈیلیڈ میں دونوں ممالک کے شائقین کی بڑی تعداد جمع ہے جبکہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ افراد نے یہ مقابلہ دیکھا

آخری مرتبہ یہ دونوں ٹیمیں 2011 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں ایک دوسرے کے خلاف کھیلی تھیں اور پاکستانی ٹیم 29 رنز سے یہ میچ ہارگئی تھی۔

اسی ٹورنامنٹ میں بھارت نے فائنل میں سری لنکا کو ہرایا تھا اور یوں وہ اس بار اپنے اعزاز کا دفاع کر رہا ہے۔

بھارت نے ماضی میں سنہ 2011 سے قبل 1983 میں بھی کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تھا۔

ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستان 1992 کے ٹورنامنٹ کا فاتح رہا جبکہ 1999 میں بھی پاکستانی ٹیم فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی جہاں آسٹریلیا نے ایک یکطرفہ مقابلے کے بعد اسے شکست دے دی تھی۔