’یہ کیسی ٹیم ورلڈ کپ میں بھیج دی ہے؟‘

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ایڈیلیڈ
کرکٹ کے عالمی کپ میں پاکستان اور بھارت کے میچ کی اہمیت کو صرف وہی شائقین محسوس نہیں کر رہے ہیں جو اپنے شوق کی خاطر بھارت یا پاکستان سے سفر اور قیام کے بھاری اخراجات پر ایڈیلیڈ پہنچے ہیں۔
روایتی حریفوں کے درمیان اتوار کو کھیلے جانے والے اس میچ کی دلچسپی نے ایڈیلیڈ میں رہنے والے پاکستانی اور بھارتیوں کو بھی اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔
میں ایڈیلیڈ اوول کے میدان سے اپنے ہوٹل جانے کے لیے ٹیکسی میں بیٹھا تو ڈرائیور نے اپنا نام رمیش کمار بتایا جس کے بعد مجھے یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ کیا کرکٹ سے دلچسپی رکھتے ہیں؟
رمیش کمار آٹھ سال سے ایڈیلیڈ میں ٹیکسی چلا رہے ہیں لیکن انھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اتوار کو ان کی ٹیکسی سڑک پر نہیں چلے گی۔
’پاک بھارت میچ ہو تو میں کیسے کام کر سکتا ہوں۔ میں ہی کیا میرے جیسے تمام بھارتی اتوار کو ورلڈ کپ کا میچ دیکھیں گے۔‘
رمیش کمار کرکٹ سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ انھیں پتہ تھا کہ پاکستان اور بھارت میچ کے ٹکٹ کب فروخت کے لیے پیش ہوں گے اور انھوں نے ذرا بھی دیر کیے بغیر ٹکٹ خرید لیا۔
بھارت کو پاکستان کے خلاف کامیاب دیکھنے کے خواہش مند رمیش کمار اپنی ٹیم سے اس بار زیادہ توقعات نہیں رکھتے بلکہ وہ بی سی سی آئی پر برس پڑے۔
’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ بی سی سی آئی نے اس بار کیا ٹیم ورلڈ کپ میں بھیج دی ہے؟ جس ٹیم میں یوراج سنگھ اور وریندر سہواگ نہ ہوں وہ کیسی ٹیم ہوگی؟ مجھے تو یہ ٹیم کوارٹر فائنل میں بھی جاتی دکھائی نہیں دیتی۔‘
رمیش کمار پاکستان اور بھارت میچ کو صرف ایک میچ سمجھتے ہیں جنگ نہیں۔
’میچ کے دن ہم یقیناً بھارتی ٹیم کو سپورٹ کریں گے لیکن اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں لہٰذا اس میچ کو بھی تفریح کے طور پر دیکھنا چاہیے یہ کوئی جنگ نہیں ہے۔‘



