ورلڈ کپ میزبانی، کتنی منافع بخش؟

انڈیا اپنے اعزاز کا دفاع کرے گا اور آسٹریلیا کی نظر اپنے پانچویں کپ پر ہوگی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنانڈیا اپنے اعزاز کا دفاع کرے گا اور آسٹریلیا کی نظر اپنے پانچویں کپ پر ہوگی
    • مصنف, فِل مرسر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، سڈنی

اندازہ ہے کہ آئندہ چھ ہفتوں میں دو ارب سے زیادہ لوگ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے میدانوں سے کرکٹ ورلڈ کپ کے مقابلے دیکھیں گے، اور اندازہ یہ بھی ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ یہ مقابلے خوابیدہ، بوجھل آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔

کرکٹ ورلڈ کپ 2015 کے میچوں میں نہ صرف دنیا بھر کے ٹی وی ناظرین کو مشرق بعید کے دن رات کے ظالمانہ فرق کو برداشت کرنا پڑے گا بلکہ وقت کا یہ فرق کھلاڑیوں اور عالمی کپ کی انتظامیہ اور حکام کی نیندیں بھی اڑائے رکھے گا۔

میلبرن کرکٹ گراؤنڈ کے خوبصورت میدان میں مارچ کے آخر میں کھیلے جانے والے فائنل سے پہلے چودہ ٹیمیں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے مختلف میدانوں میں 49 مرتبہ ایک دوسرے کے مد مقابل ہو چکی ہوں گی۔

آئی سی سی کے سربراہ ڈیوڈ رچرڈسن کہتے ہیں کہ سنہ 1975 میں پہلے ورلڈ کپ کے انعقاد کے بعد سے کرکٹ کا عالمی کپ کھیلوں کی دنیا کا ایک بہت بڑا جزو بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ورلڈ کپ دنیا کے 200 سے زیادہ علاقوں میں براہ راست نشر کیا جائے گا۔ یہ تعداد اگرچہ فٹبال کے ورلڈ کپ کے مقابلے میں آدھی ہے لیکن جن علاقوں میں رگبی کے عالمی مقابلے براہ راست نشر کیے جاتے ہیں ان کے مقابلے میں یہ تعداد دس گنا ہے۔ اس لیے ہم فخریہ طور پر کہہ سکتے ہیں کہ کرکٹ ورلڈ کپ دنیا بھر کے کھیلوں کے بڑے مقابلوں میں سے ایک بن چکا ہے۔‘

منافع بخش کاروبار

اگرچہ ورلڈ کپ میں کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ تو میدان اور ٹی وی سکرینوں کے سامنے بیٹھے ہوئے شائقین و ناظرین ہی ہوں گے، لیکن میزبان ممالک کو کئی دیگر مالی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی خواہش ہے اس ورلڈ کپ کو ایک یادگار ورلڈ کپ بنایا جائے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی خواہش ہے اس ورلڈ کپ کو ایک یادگار ورلڈ کپ بنایا جائے

یونیورسٹی آف نیو ساوتھ ویلز کے بزنس سکول سے منسلک ٹِم ہارکورٹ کے بقول ’آسٹریلیا کا سیاحت کے ادارے ’ٹورزم آسٹریلیا‘ کی نظر میں ورلڈ کپ ملک کے لیے بہت اچھا ثابت ہوگا۔ اس کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ کرکٹ کے شائقین کے پاس بھی خرچ کرنے کو بہت پیسہ ہوگا۔‘

’کھیلوں کے ذریعے سفارتکاری` کے پروگرام کے تحت آسٹریلوی حکومت کا تجارتی کمیشن ورلڈ کپ کے دنوں میں کئی کاروباری تقریبات منعقد کرے گا جن کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری، تعلیم اور سیاحت کے شعبوں کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا ہے۔

ٹِم ہارکورٹ کہتے ہیں نیوزی لینڈ کے ساتھ ملک کر کھیلوں کی مشترکہ میزبانی کے حوالے سے آسٹریلیا کا ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے۔

’ہم منگولیا میں کانکنی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور اسی طرح بھارتی ریاست اتر پردیش میں آبپاشی کے منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد بھی ایسی ہی چیز ہے جس میں آپ لوگوں کو اپنے وسیع و عریض ملک میں مختلف مقامات پر لے کر جاتے ہیں۔‘

’کھیلوں کے مقابلوں کے لیے بھی آپ کو اسی قسم کی مہارت چاہیے ہوتی ہے اور میرا خیال ہے کہ سنہ 2000 کے سڈنی اولمپکس سے اب تک ہم نے یہ مہارت حاصل کر لی ہے۔‘

اگرچہ ورلڈ کپ کے منتظین ان مقابلوں سے ہونے والی متوقع آمدنی کے بارے میں زیادہ پیشنگوئیاں نہیں کر رہے، تاہم میڈیا کا اندازہ ہے کہ ورلڈ کپ سے 20 کروڑ ڈالر کا منافع ہوگا۔ انڈیا کی میزبانی میں ہونے والے 2011 کے ورلڈ کپ میں 32 کروڑ ڈالر کا منافع ہوا تھا۔

کھیل کا کیا ہوگا؟

ورلڈ کپ سے بڑی آمدن میزبان ممالک کے لیے تو بہت اچھی خبر ہے، لیکن اس سے کرکٹ کا بین الاقوامی کھیل کو غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔

گدشتہ برس اکتوبر میں ویسٹ انڈیز نے کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے درمیان معاوضے پر تنازعے کی وجہ سے اپنا بھارت کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔ لگتا ہے کہ بھارتی حکام عدالتوں کے ذریعے اس منسوخی سے ہونے والے مالی نقصان کی تلافی کی پوری کوشش کر رہے ہیں، تاہم کئی لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس عمل میں ویسٹ انڈیز میں کرکٹ کے کھیل کو ایسے زخم لگ سکتے ہیں جو شاید کبھی مندمل نہ ہو سکیں گے۔

اندازہ ہے کہ اگلے چھ ہفتوں میں دس لاکھ سے زیادہ شائقین میزبان ممالک کے میدانوں کا رخ کریں گے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناندازہ ہے کہ اگلے چھ ہفتوں میں دس لاکھ سے زیادہ شائقین میزبان ممالک کے میدانوں کا رخ کریں گے

تاہم سڈنی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان ڈیرن سامی کا اصرار تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع حل ہو رہا ہے۔

’ہمیں اس معاملے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انڈیا میں جو کچھ ہوا، ہر فریق کی یہی خواہش ہے کہ اسے فراموش کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مسائل پیدا ہو گئے تھے لیکن اب مختلف عہدوں پر ایسے افراد موجود ہیں جو مل کر ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

’کھلاڑی ہونے کے حوالے سے ہمارا کام یہ ہے کہ میدان میں اتریں اور اچھی کرکٹ کھیل کر دکھائیں۔ ہمیشہ کچھ ایسی باتیں ہوتی رہیں گی جن پر تمام لوگوں کا اتفاق نہیں ہوگا۔‘