بھارت پھر جیت گیا، پاکستان کا انتظار جاری

جزوقتی اوپنر یونس خان اور جزوقتی وکٹ کیپر عمراکمل کا تجربہ منہ میں آئے کڑوے بادام کی طرح رہا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجزوقتی اوپنر یونس خان اور جزوقتی وکٹ کیپر عمراکمل کا تجربہ منہ میں آئے کڑوے بادام کی طرح رہا
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ایڈیلیڈ

ایڈیلیڈ اوول میں وہی ہوا جو ورلڈ کپ میں اس سے پہلے بھی دنیا دیکھتی آئی ہے۔

بھارتی ٹیم اپنے شائقین کو پھر خوشی دینے میں کامیاب رہی لیکن پاکستان کے لیے تئیس سال کے صبر آزما انتظار میں مزید چار سال کا اضافہ ہوگیا۔

پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے آ گئی ہے لیکن کامبی نیشن کو حتمی شکل دیے بغیر۔

جزوقتی اوپنر یونس خان اور جزوقتی وکٹ کیپر عمراکمل کا تجربہ منہ میں آئے کڑوے بادام کی طرح رہا۔

یونس خان کو اگر اوپنر کھلانا ہی تھا تو ٹیم منتخب کرتے وقت سلیکٹرز نے سرفراز احمد کو ٹیم کا تیسرا اوپنر کیوں قرار دیا تھا؟

اور اگر ناصرجمشید پر کسی کو اعتماد نہیں ہے تو پھر انہیں محمد حفیظ کے متبادل کے طور پر ٹیم میں کیوں شامل کیا گیا؟

ماضی میں عمراکمل کے گرائے گئے کیچز نے سلیکٹرز کو سرفراز احمد پر اعتماد کرنے پر مجبور کردیا تھا لیکن پچاس اوورز کی کرکٹ میں ایک بار پھر عمراکمل کو وکٹ کیپنگ گلوز پہنا دیے گئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنماضی میں عمراکمل کے گرائے گئے کیچز نے سلیکٹرز کو سرفراز احمد پر اعتماد کرنے پر مجبور کردیا تھا لیکن پچاس اوورز کی کرکٹ میں ایک بار پھر عمراکمل کو وکٹ کیپنگ گلوز پہنا دیے گئے

ماضی میں عمراکمل کے گرائے گئے کیچز نے سلیکٹرز کو سرفراز احمد پر اعتماد کرنے پر مجبور کردیا تھا لیکن پچاس اوورز کی کرکٹ میں ایک بار پھر عمراکمل کو وکٹ کیپنگ گلوز پہنا دیے گئے جس کا پہلا خمیازہ ویراٹ کوہلی کے ڈراپ کیچ کی شکل میں ٹیم کو بھگتنا پڑا۔

تین سو ایک رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کی امیدوں کو پہلا جھٹکا یونس خان کے آؤٹ ہونے کی صورت میں پہنچا جو اپنے دو سو باسٹھ ون ڈے میچوں کے کریئر میں تیسری مرتبہ اوپنر کی حیثیت سے کھیلے اور پچھلے دو مواقعوں کی طرح اس بار بھی مایوس لوٹ گئے۔

احمد شہزاد اور حارث سہیل کی اڑسٹھ رنز کی شراکت ٹوٹتے ہی صورتحال نے پلٹا کھایا اور سکور کے ایک سو تین تک آتے آتے پاکستانی ٹیم پانچ وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی۔

کپتان مصباح الحق نے ایک بار پھر خود کو مشکل صورتحال میں پایا تاہم وہ حسب معمول تنہا ہی محاذ پر لڑتے ہوئے نظر آئے۔ ان کی مزاحمت چھہتر رنز پر ختم ہوئی تو پاکستانی شائقین بھی میدان سے اٹھ کر چلنے لگے تھے۔

اس سے قبل بھارتی اننگز میں روہیت شرما کی وکٹ جلد گرنے کے بعد لگاتار دو سنچری پارٹنرشپس نے ایک بڑے سکور تک پہنچنے کا سامان کردیا۔

شیکھر دھون کی فارم کچھ دنوں سے سوالیہ نشان بنی ہوئی تھی لیکن تہتر رنز کی اننگز نے ان کا اعتماد بحال کردیا۔

یونس خان کو اگر اوپنر کھلا نا ہی تھا تو ٹیم منتخب کرتے وقت سلیکٹرز نے سرفراز احمد کو ٹیم کا تیسرا اوپنر کیوں قرار دیا تھا؟

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیونس خان کو اگر اوپنر کھلا نا ہی تھا تو ٹیم منتخب کرتے وقت سلیکٹرز نے سرفراز احمد کو ٹیم کا تیسرا اوپنر کیوں قرار دیا تھا؟

ویراٹ کوہلی نے اسی ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنائی تھیں لیکن چار ٹیسٹ سنچریوں کے بعد چھ ون ڈے اننگز میں وہ کچھ بھی نہ کرسکے تھے شاید یہی وہ غصہ تھا جو انہوں نے پاکستانی بولرز پر اتارا اور ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستان کے خلاف سنچری بنانے والے پہلے بھارتی بیٹسمین بن گئے لیکن وہ یاسر شاہ اور عمراکمل کے شکرگزار تھے جنہوں نے تین اور چھہتر پر بچ نکل کرانہیں سنچری تک پہنچنے کا موقع فراہم کردیا۔

پاکستانی بولرز کو سریش رائنا کی شکل میں ایک اور مصیبت جھیلنی پڑی جنہوں نے صرف چھپن گیندوں پر تین چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے چوہتر رنز بناڈالے۔

سہیل خان نے متاثرکن بولنگ کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے اپنے پہلے ہی میچ میں پانچ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی دکھائی۔

وہاب ریاض نے رنز دینے کے معاملے میں خود کو خاصا منظم رکھا ۔ محمد عرفان بھی بہت زیادہ مہنگے ثابت نہیں ہوئے لیکن پچ کے خطرناک حصے پر دوڑنے پر وہ دو مرتبہ امپائرز کی تنبیہ کی زد میں آئے۔

لیگ اسپنر یاسر شاہ کو کھلانے کا فیصلہ غلط ثابت ہوا کیونکہ وہ تمام وقت بیٹسمینوں کے نشانے پر رہے۔