شکست کا زخم اور فٹنس کے گھاؤ ساتھ ساتھ

پاکستان نے شارجہ میں نیوزی لینڈ سے پہلا ایک روزہ میچ ہارا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان نے شارجہ میں نیوزی لینڈ سے پہلا ایک روزہ میچ ہارا ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام, پاکستان

نیوزی لینڈ نے بالآخر پاکستان کے خلاف شارجہ میں پہلی مرتبہ ون ڈے انٹرنیشنل جیت لیا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم ابتدا ہی سے مشکل میں ایسی گھری کہ آخر تک نہ نکل سکی۔

بیٹنگ میں ایک بھی بڑی اننگز یا قابل ذ کر شراکت قائم نہ ہوسکی اور جب بولنگ آئی تو مستند بولرز بیٹسمینوں کے سامنے کٹھ پتلی تماشا بنے رہے ۔ کپتان ولیم سن کی ذمہ دارانہ نصف سنچری نے چار وکٹوں کی جیت کے ساتھ ساتھ سیریز بھی برابر کردی ۔

ستم بالائے ستم کپتان مصباح الحق فیلڈنگ کے دوران ڈائیو لگاکر ہمسٹرنگ میں مبتلا ہوگئے اور اگلے میچ میں ان کی شرکت یقینی نہیں ۔

فاسٹ بولر عمرگل ٹخنے کی تکلیف کے سبب سیریز سے باہر ہوچکے ہیں۔ محمد حفیظ معطلی کے سبب بولنگ نہیں کرسکتے اس طرح پاکستانی ٹیم کی مشکلات میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔

پاکستانی ٹیم بمشکل 252 رنز تک پہنچ پائی ۔

احمد شہزاد ، یونس خان اور اسد شفیق کی اننگز پلک جھپکنے کا کھیل ثابت ہوئیں۔

محمد حفیظ نے 76 رنز پر وکٹ گنوائی۔ مصباح الحق 47 پر امپائر رچرڈ النگورتھ کے غلط فیصلے کی بھینٹ چڑھ گئے۔

حارث سہیل نے 33 رنز پر حوصلہ ہارا اور جب شاہد آفریدی تین چھکوں اور ایک چوکے کی مختصر سی تفریح شائقین فراہم کرکے آؤٹ ہوئے تو نو اوورز باقی تھے لیکن سرفراز احمد وہاب ریاض اور سہیل تنویر کے ہوتے ہوئے بھی ٹیم اننگز کے پورے اوورز نہ کھیل سکی۔

براؤن لی اور ڈیوسچ کی سنچری اوپننگ پارٹنرشپ نے نیوزی لینڈ کو جیت کے قریب کردیا تھا لیکن حارث سہیل کی تین وکٹوں نے ہدف مشکل بنادیا مگر فاسٹ بولرز کا ٹرائیکا ولیم سن اور رانکی پر حاوی نہ ہوسکا۔

وکٹ کیپر سرفراز احمد نے آخری لمحات میں ولیم سن کا کیچ ڈراپ کرکے حارث سہیل کو اننگز کی چوتھی وکٹ سے محروم کردیا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف دو ون ڈے کھیل لیے۔

ٹیم کا اعلان بھی ان ہی دو میچوں کے لیے کیا گیا تھا اور کپتان اور چیف سلیکٹرز نے بھی یہی کہا تھا کہ اسی سیریز سے انہیں ورلڈ کپ اسکواڈ تشکیل دینا ہے۔اب یہ دونوں ہی بہتر جانتے ہیں کہ اگلے تین میچوں میں وہ مزید کتنے کھلاڑی آزمانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بظاہر اس وقت جو کھلاڑی متحدہ عرب امارات میں ہیں ان ہی کو اگلے میچوں میں موقع ملنے کا امکان روشن ہے البتہ پہلے دو میچوں کے بعد اسد شفیق اور یونس خان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ضرور لگ گیا ہے۔

محمد حفیظ نے پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ انفرادی سکور کیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمحمد حفیظ نے پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ انفرادی سکور کیا

یونس خان کی ون ڈے ٹیم میں شمولیت آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ان کی انتہائی غیرمعمولی کارکردگی سے زیادہ اس شدید ردعمل کا نتیجہ تھی جو انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے ٹیم سے ڈراپ کیے جانے پر ظاہر کیا تھا اور جب آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ان کے بیٹ سے رنز رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین نے بھی میڈیا میں ان کی ون ڈے ٹیم میں شمولیت کی نوید سنادی تھی یوں سلیکٹرز پر انہیں ون ڈے ٹیم میں شامل کرنے کا پریشر آگیا تھا۔

یہ صرف پاکستان میں ہی ہوتا ہے کہ کوئی کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ میں پانچ دن کی کرکٹ کی کارکردگی پر ٹی ٹوئنٹی یا ون ڈے کی ٹیم میں منتخب کرلیا جاتا ہے اور ون ڈے کی پرفارمنس پر اسے ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنادیا جاتا ہے۔

یونس خان ممکن ہے اگلے تین میچوں میں بھی کھیل جائیں کیونکہ کپتان مصباح الحق کہہ چکے ہیں کہ سینیئر بیٹسمین ہونے کے ناطے یونس خان یہ سیریز ٹرائل بنیاد پر نہیں کھیل رہے ہیں لیکن اسد شفیق کو اب مزید موقع دینے کا جواز نہیں رہا۔

اسد شفیق چار سال سے ون ڈے انٹرنیشنل کھیل رہے ہیں اور ون ڈاؤن اور چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرنے کے باوجود ابھی تک پچاس اننگز میں ایک بھی سنچری سکور نہیں کرسکے ہیں۔ پچھلے دو سال کے دوران سولہ اننگز میں ان کی صرف دو نصف سنچریاں ہیں۔

کیا اس کارکردگی پر بھی وہ ورلڈ کپ کی ٹیم میں آسکتے ہیں؟۔