دبئی میں بیٹسمینوں نے ایک اور میچ ٹھکانے لگا دیا

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
دبئی میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے اور آخری میچ میں بولرز کی محنت ٹھکانے لگانے والی بیٹنگ کارکردگی میں ایک اور میچ کا اضافہ ہوگیا۔
پاکستانی بیٹسمینوں سے 145 رنز نہ بن سکے اور نیوزی لینڈ نے پہلے میچ کی شکست کا حساب اگلے ہی دن 17 رنز کی جیت سے بے باق کردیا۔
نیوزی لینڈ کی اننگز تک سب کچھ پہلے میچ کی طرح معلوم ہو رہا تھا۔
آفریدی کا ٹاس جیتنا۔نیوزی لینڈ کا پہلے بیٹنگ کرنا اور پاکستانی بولنگ پر وقفے وقفے سے وکٹیں گراتے ہوئے پہلے میچ کے سکور سے کچھ ہی زیادہ رنز سکور کرنا لیکن پاکستانی اننگز میں ابتدا سے انتہا تک ہر چیز بدلی رہی یہاں تک کہ نتیجہ بھی۔
نیوزی لینڈ نے پاور پلے کا اچھا استعمال کرتے ہوئے 43 رنز سکور کیے لیکن اس کے بعد سپنرز کے سات اوورز میں اس کی چار وکٹیں گرگئیں اور پہلے میچ کی طرح اس مرتبہ بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم ایک بڑے سکور تک پہنچنے کے لیے تگ ودو کرتی نظر آئی۔
پاکستان کے نقطہ نظر سے خوش آئند بات عمرگل کی اس سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد ٹیم میں واپسی تھی جنھوں نے راڈ لیتھم اور دو سال بعد اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے والے ڈینئل ویٹوری کی وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستانی اننگز کو پہلا نقصان غیر نے نہیں بلکہ اپنے نے پہنچایا۔
امپائر شوزیب رضا نے اینٹن ڈیویسچ کی لیگ سٹمپ سے بہت دور جاتی ہوئی گیند پر سرفراز احمد کو ایل بی ڈبلیو دے کر میدان میں موجود ہر کسی کو حیران کر دیا۔
اس سے قبل انھوں نے نیوزی لینڈ کی اننگز میں شاہد آفریدی کی گیند پر ڈین براؤن لی کو ایل بی ڈبلیو دیا تھا وہ فیصلہ بھی درست نہ تھا۔
پہلے میچ کے ہیرو سرفراز احمد کے آؤٹ ہونے کے بعد بیٹسمینوں کا آنا اور جانا لگا رہا۔
محمد حفیظ نے دو چوکے لگا کر اچھی ابتدا کی لیکن ڈبل فگرز میں آنے سے پہلے ہی وہ ڈیویسچ کے ہاتھوں جکڑے گئے۔
حارث سہیل پر کی جانے والی انوسمنٹ گھاٹے کا سودا ثابت ہوئی ہے۔
ون ڈے کی طرح ٹی ٹوئنٹی میں بھی وہ دباؤ برداشت کرنے والے بیٹسمین معلوم نہیں ہوئے۔
سعد نسیم اور احمد شہزاد کی وکٹوں نے نیوزی لینڈ کی میچ پر گرفت مزید مضبوط کر دی اور جب عمراکمل کا ٹیلنٹ بھی خاموش ہوا تو شائقین کی دلچسپی صرف شاہد آفریدی کے چھکوں سے وابستہ رہ گئی تھی۔
بوم بوم نے تین چھکوں اور ایک چوکے سے محفل جمانے کی کوشش کی لیکن مپائر علیم ڈار کے کاٹ بی ہائنڈ فیصلے نے سٹیڈیم میں خاموشی پیدا کر دی جس کے بعد نیوزی لینڈ کے بولرز کو آخری دو وکٹیں بھی جلد مل گئیں۔



