گیند لگنے سے اسرائیلی امپائر ہلاک

کرکٹ کے میدان پر دو دنوں میں دو سانحے، پہلے بیٹسمین اور پھر امپائر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکرکٹ کے میدان پر دو دنوں میں دو سانحے، پہلے بیٹسمین اور پھر امپائر

آسٹریلوی کھلاڑی فل ہیوز کے مرنے کے بعد اب اسرائیل کے شہر اشدود میں ایک کرکٹ میچ کے دوران گیند لگنے سے ایک امپائر ہلاک ہو گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک فاسٹ بولر کو لگائے جانے والے تیز رفتار شاٹ پر گیند پہلے وکٹ سے ٹکرائی اور پھر امپائر کو جا لگی۔

یہ واقعہ آسٹریلوی کرکٹر فلپ ہیوز کی موت کے دو دن بعد پیش آيا ہے۔

واضح رہے کہ سڈنی میں ہونے والے ایک فرسٹ کلاس میچ کے دوران ایک باؤنسر لگنے سے ہیوز کے سر پر چوٹ آئی تھی اور وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے تھے۔

کرکٹ میں حفاظتی اقدام کے تحت بیٹسمین کے علاوہ ان کے بہت ‌قریب فیلڈنگ کرنے والے بعض کرکٹر بھی ہیلمیٹ پہنتے ہیں تاہم امپائر ہیلمٹ نہیں پہنتے کیونکہ انھیں اس طرح کے خطرات کا سامنا کم ہی رہتا ہے۔

اس سے قبل پانچ سال پہلے ویلز میں ایک فیلڈر کی جانب سے پھینکی جانے والی گیند سے ایک امپائر کی موت واقع ہو گئی تھی۔

ان دو اموات کے بعد کرکٹ کے شعبے میں حفاظتی اقدامات میں بہتری لائی جانے کی توقع ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنان دو اموات کے بعد کرکٹ کے شعبے میں حفاظتی اقدامات میں بہتری لائی جانے کی توقع ہے

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی کرکٹ ایسوسی ایشن نے اس امپائر کا نام ہلیل آسکر بتایا ہے۔

ان کی عمر 55 سال تھی اور وہ اسرائیل کی قومی ٹیم کے کپتان بھی رہ چکے تھے۔

اطلاعات کے مطابق ان کی موت کے بارے میں مختلف النوع خبریں آ رہی ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ گیند ان کے چہرے پر لگی تھی جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ گیند سینے پر لگی تھی جس کی وجہ سے انھیں دل کا دورہ پڑنے سے موت واقع ہوئی ہے۔

بہر حال انھیں فوری طور پر شہر کے ہسپتال لے جایا گيا لیکن ڈاکٹر اسے ہوش میں لانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

واضح رہے کہ سنيچر کو ہونے والا میچ اسرائیل میں جاری لیگ کا آخری میچ تھا۔

اسرائیل میں کرکٹ مقبول کھیل نہیں ہے لیکن وہاں غیر پیشہ ورانہ لیگ منعقد کی جاتی ہے جن میں بھارت، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے کھلاڑی شرکت کرتے ہیں۔