کیا ہیلمٹ سر کی مکمل حفاظت کرتا ہے؟

فلپ ہیوز

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفلپ ہیوز نے آسٹریلیا کی طرف سے 26 ٹیسٹ میچ کھیلے

آسٹریلوی کرکٹر فلپ ہیوز سر پر گیند لگنے کے بعد چل بسے ہیں۔ اس کے بعد یہ سوال ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ کیا ہیلمٹس مکمل طور پر سر کی حفاظت کرتے ہیں؟

کرکٹ کے بارے میں اکثر طنزاً کہا جاتا ہے کہ یہ ایک سست کھیل ہے جس میں بعض اوقات ایکشن صرف چند سیکنڈوں کا ہوتا ہے۔ لیکن صف اول کے کھلاڑیوں کو اکثر ایک ٹھوس گیند کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کا وزن 155.9گرام ہوتا ہے اور یہ اکثر 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ان کی طرف پھینکی جاتی ہے۔

سڈنی کے ہسپتال میں ہیوز دو دن تک بے ہوش رہنے کے بعد چلے بسے۔ انھیں یہ زخم بائیں طرف گُدی پر گیند لگنے کی وجہ سے آیا تھا۔ یہ حصہ یقیناً مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتا کیونکہ یہ ہیلمٹ کے بالکل نیچے ہوتا ہے۔

کرکٹ میں سیفٹی ڈیزائن بہتر ہو چکے ہیں اور ہیلمٹ کچھ عرصہ پہلے ہی لازمی قرار پائے ہیں۔ لیکن کیا انھیں پیچیدہ بنائے بغیر مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے؟

یونیورسٹی آف سڈنی کے کرکٹ بائیومیٹرک ریسرچ کے سربراہ رینے فرڈیننڈز کہتے ہیں کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی مزید بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس طرح کی حفاظت مہیا کی جائے جو ہیلمٹ سے سے مزید آگے کے حصوں کو بھی محفوظ رکھے۔‘

کرکٹ ہیلمٹس

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکرکٹ ہیلمٹس کا ارتقا

فرڈیننڈز کہتے ہیں کہ ’ایک طریقہ سر کی ٹوپی پہننا ہے جو کومپوزٹ فوم یا کسی ایسے ہی مادے سے بنی ہو جو ہیلمٹ کے نیچے کے حصے سے پیچھے تک جائے۔ تحقیق کے مطابق ایسا مادہ بیس بال کی 50 سے 70 فیصد چوٹ برداشت کر سکتا ہے اور اس سے کھلاڑی کے بھاگنے دوڑنے میں بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہو گی۔‘

برطانیہ کی ماسوری کمپنی جس نے ہیوز کا ہیلمٹ بنایا تھا، کہتی ہے کہ ہیوز نے کمپنی کا جدید ہیلمٹ نہیں پہنا تھا جو اس جگہ پر اضافی تحفظ فراہم کرتا ہے جہاں انھیں گیند لگی تھی۔ کمپنی مزید ویڈیو فوٹیج ڈھونڈ رہی ہے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ اصل میں کس جگہ پر چوٹ لگی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سر اور گردن کا بہت غیر محفوظ حصہ ہے جس کی حفاظت ہیلمٹ مکمل طور پر نہیں کر سکتے۔

کرکٹ ان بہت سارے کھیلوں میں سے ایک کھیل ہے جس میں ہیلمٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ سویڈن میں آئس ہاکی میں کئی کھلاڑیوں کو چوٹیں لگنے کے بعد 1963 میں اسے پہننا لازمی قرار دیا گیا، اس کے بعد کئی دوسرے ممالک نے بھی یہی کیا۔ 1979 میں امریکہ نے بھی یہی قدم اٹھایا۔

1970 کی دہائی میں چہرے کو محفوظ رکھنے والی جالی لازمی قرار دی گئی اور اور 1980 کی دہائی میں گلے کو محفوظ رکھنے والی پٹی۔

انگلینڈ کے سابق کرکٹ کپتان مائیک گیٹنگ کہتے ہیں کہ ’جب میں نے کرکٹ شروع کی تھی تو وہ اس وقت ہیلمٹ نہیں ہوتے تھے۔ 1986 میں ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر میلکم مارشل کی ایک گیند لگنے سے مائیک گیٹنگ کے ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی: ’بدقسمتی سے گیند فل کو کسی ایسی جگہ لگی جہاں زیادہ نقصان ہوا ہے، بہت ہی زیادہ نقصان اور یہ بہت ہی المناک بات ہے۔‘

گذشتہ سال لوبرو اور کارڈف میٹروپولیٹن یونیورسٹیوں کے تحقیق کاروں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کے دوران ہیلمٹ پہننے کے باوجود زخمی ہونے والے کھلاڑیوں کی 35 ویڈیوز کا تجزیہ کیا۔ ان میں زیادہ تر کھلاڑیوں کو فیس گارڈ پر گیند لگا تھا یا گیند سامنے والی حفاظتی جالی سے اندر چلا گیا۔ ان میں زیادہ تر کھلاڑیوں کو کٹ لگے، فریکچر ہوئے یا زخم آئے۔

مائیک گیٹنگ

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمائیک گیٹنگ کی ناک کی ہڈی ویسٹ انڈیز کے تیز بولر میلکم مارشل کی گیند لگنے سے ٹوٹ گئی تھی

لیکن ان میں سے چھ کھلاڑیوں کو ہیلمٹ کے پچھلے حصے میں چوٹ لگنے کی وجہ سے زخم آئے جبکہ دو کو غیر محفوظ گلے اور سر کے پچھلے دائیں یا بائیں حصے میں گیند لگنے سے۔ تحقیق کے مطابق اس طرح کی چوٹ کا نتیجہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ کھلاڑی بے ہوش ہو جاتا ہے ۔

تحقیق میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ہیلمٹ کے شیل کو سر کے پچلے حصے کی طرف بڑھانے سے شاید سر کی زیادہ حفاظت ہو۔

لیکن سر کی چوٹ ہمیشہ سے ہی تشویش ناک بات رہی ہے۔ 1932 میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ سیریز کے دوران ایک باؤنسر لگنے سے آسٹریلیا کے کھلاڑی برٹ اولڈ فیلڈ کے سر کی ہڈی فریکچر ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سر کی حفاظت کے لیے کافی تشویش ظاہر کی گئی۔

لیکن گزشتہ 40 سال میں ہیلمٹ کا استعمال کافی عام ہوا ہے۔

انڈیا کے بیٹسمین سنیل گواسکر نے سر کی حفاظت کے لیے خود ہی ایک ٹوپی بنوائی تھی، لیکن وہ ہیلمٹ نہیں پہنتے تھے۔ 2009 میں گواسکر نے کہا تھا کہ ’میری عادت تھی کہ میں سونے سے پہلے پڑھتا تھا اور اکثر پڑھتے پڑھتے سو جاتا تھا۔ اس وجہ سے میری گردن کے پٹھے کمزور پڑ گئے تھے اور مجھے خوف تھا کہ باؤنسر کا سامنا کرتے ہوئے میرا ردِ عمل دھیما پڑ سکتا ہے۔‘

کرکٹ کے کھیل کے تاریخ دان گڈیون ہے کہتے ہیں کہ 1970 کی دہائی کے دوران ہیلمٹ پہننے کا رواج اس وقت عام ہوا جب آسٹریلیا کے ڈیوڈ ہووکس کا ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر اینڈی رابرٹس کی گیند لگنے سے جبڑا ٹوٹ گیا۔

جدید ہیلمٹس اس طرح بنائے گئے ہیں کہ وہ گیند کی طاقت اپنے اندر سمو لیتے ہیں لیکن ابھی بھی کئی ایسی چیزیں ہیں جنھیں بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

فرڈیننڈز کہتے ہیں کہ ’ہیلمٹ ڈیزائن پہلے سے یقیناً بہت بہتر ہے۔۔۔ لیکن یہ ارتقا کا عمل ہے۔ ہمیں اگلا قدم اٹھانا ہے۔‘