کرکٹ کے خطرات کی یاد دہانی

فل ہیوز کے لیے کرکٹ کھیلنے والا ہر شخص دعا گو ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنفل ہیوز کے لیے کرکٹ کھیلنے والا ہر شخص دعا گو ہے
    • مصنف, جوناتھن ایگنیو
    • عہدہ, نامہ نگار بی بی سی

آسٹریلیا کے کھلاڑی فل ہیوز کے سر میں لگنے والی گیند سے ان خطرات کی یاد دہانی کرواتی ہے جس کا سامنا ہر بلے باز کو 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آتی ہوئی گیند کو کھیلتے ہوئے کرنا پڑتا ہے۔

کرکٹ کی دنیا میں 35 سال قبل ہیلمٹ کا استعمال شروع ہونے کے بعد سے اس قسم کے حادثات نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے۔

سر کی حفاظت کے لیے ہلکے پھلکے ہیلمٹوں کی وجہ سے ہر عمر اور ہر صلاحیت کے کرکٹ کھیلنے والے محفوظ رہے ہیں۔

کھیل کے دوران باؤنسروں کی حد مقرر ہے اور ایمپائر بھی اپنے خصوصی اختیار استعمال کر کے کسی بولر کو ایک حد سے زیادہ ایسی گیندیں کرنے سے روک سکتا ہے، خاص طر پر اس وقت جب ایمپائر یہ سمجھے کہ بولر غیر ضروری طور پر بلے باز کو ڈرانے یا اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

کرکٹ اوّل و آخر کھیل ہی ہے اور کھلے میدان میں کھیلے جانا والا شاید ہی کوئی ایسا کھیل ہو جس میں کوئی خطرہ نہ ہو۔

احمد شہزاد کو بھی سر میں گیند لگنے سے شدید زخم آیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناحمد شہزاد کو بھی سر میں گیند لگنے سے شدید زخم آیا تھا

کرکٹ کے میدان اور کرکٹ قوانین کی کتابوں میں باؤنسر نہ صرف جائز اور قانونی گیند ہے بلکہ تیز رفتار بولروں کے ترکش کا ایک اہم تیر بھی ہے۔

اس کو کھیل سے نکال دینا ایسا ہی ہو گا جیسے کسی باکسر سے کہا جائے کہ وہ اپنے مخالف کو ہلکے ہلکے گھونسے تو ضرور مار لے لیکن اپنا بھرپور مکہ کسی اور دن کے لیے اٹھا رکھے۔

کرکٹ خطرے سے خالی تو نہیں ہو سکتا لیکن ان خطرات کو جتنا ممکن ہو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔

فاسٹ بولروں کے ہاتھوں بلے باز کے زخمی ہو جانے کے حادثے کا ایک پہلو جسے عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ایسے حادثے کے بعد بولر پر کیا گزرتی ہے۔

ایک لمحے آپ تیز رفتار بولر اور تیس مار خان ہوتے ہیں اور دوسرے لمحے آپ کے سامنے ایک بلے باز زمین پر بے ہوش پڑا ہوتا ہے۔

سنہ 1975 میں ایک ٹیسٹ میچ کے دوران نیوزی لینڈ کے بلے باز ویون چیٹفیلڈ کو انگلیڈ کے بولر پیٹر لیور کی گیند سر پر لگی تھی جس کی وجہ سے ان کی زبان ان کے حلق میں چلی گئی تھی۔

چیٹفیلڈ کی زندگی تو ڈاکٹروں نے بچا لی لیکن مجھے یاد ہے کہ پیٹر کس قدر دلبرداشتہ ہوئے تھے۔ آئی سی سی کے ریفری رنجن مدوگالے کے ہونٹوں پر اب بھی اس زخم کا نشان ہے جو میری ایک گیند سے انھیں سنہ 1985 میں لگا تھا۔

اس وقت مجھے بہت دکھ ہوا تھا، حالانکہ میں صرف اپنا کام کر رہا تھا۔

آج کل دنیا بھر میں اس قدر کرکٹ کھیلی جا رہی ہے اور سر پر گیند لگنے کے بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ قسمت سے ہی بلے باز زیادہ گہرا زخم آنے سے بچ جاتے ہیں۔

ہیوز بہت بدقسمت رہے کہ شین ایبٹ کی گیند ان کے سر کے نچلے حصے پر لگی جو غیر محفوظ ہوتا ہے۔