عمر کارکردگی کی راہ میں رکاوٹ نہیں: ذوالفقار بابر

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, شکور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ابوظہبی

پاکستانی ٹیم کے لیفٹ آرم سپنر ذوالفقار بابر اپنی چھتیسویں سالگرہ سے زیادہ دور نہیں لیکن وہ اپنی کارکردگی کی راہ میں عمر کو رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھتے اور نہ ہی پاکستان کی طرف سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا موقع بہت دیر سے ملنے کے گلے شکوے کرتے ہیں۔

یہ ذوالفقار بابر کی فتح گر بولنگ ہی ہے جس نے دبئی ٹیسٹ میں پاکستان کی شاندار جیت میں اہم کردار ادا کیا اور وہ اس عمدہ کارکردگی کو ابوظہبی ٹیسٹ میں بھی دوہرانے کے لیے پرعزم ہیں۔

ذوالفقار بابر سے جب پوچھا کہ طویل عرصے سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کے باوجود پاکستانی ٹیم میں شمولیت دیر سے نہیں ہوئی تو انھوں نے اسے خدا کی مرضی اور اپنا نصیب قرار دے دیا۔

’ہر شخص کو جو بھی ملنا ہے وہ اس کے اپنے وقت اور نصیب کے مطابق ہی ملنا ہے اور یہی اس کے حق میں بھی بہتر ہوتا ہے۔ میں نے بھی پاکستان کی طرف سے کھیلنے کی امید لگا رکھی تھی محنت کرتا رہا ہوں اور جب میرا وقت آیا میں ٹیم میں تھا۔‘

ذوالفقار بابر کہتے ہیں کہ ان کے لیے عمر مسئلہ نہیں اصل اہمیت فٹنس اورپرفارمنس کی ہے۔ ’جب تک فٹ رہا کھیلتا رہا ہوں۔ ہمارے سامنے مصباح الحق اور یونس خان کی مثالیں موجود ہیں۔‘

ذوالفقار بابر جنوبی افریقہ کے جے پی ڈومینی کو اپنی سب سے یادگار وکٹ قرار دیتے ہیں۔

’اپنے پہلے ٹیسٹ میں میں نے ڈومینی کی وکٹ حاصل کی تھی جسے میں نہیں بھول سکتا۔آسٹریلیا کے خلاف دبئی ٹیسٹ میں مجھے بریڈ ہیڈن کو بولڈ کرکے مزا آیا۔‘

ذوالفقار بابر نے 2001 میں فرسٹ کلاس کرکٹ کی ابتدا کی تھی لیکن صرف ایک میچ کے بعد اگلا فرسٹ کلاس میچ کھیلنےمیں چھ سال لگ گئے کیونکہ اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار بابر کو ملتان ریجن سےکھیلنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ علاقائی کرکٹ کی اندرونی سیاست نے ان کی کرکٹ کو خاصا متاثر کیا جس کے وہ اب بھی شاکی ہیں۔

’ریجنل کرکٹ میں بڑی سیاست ہوتی ہے۔ مجھے بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہمت نہیں ہاری تھی اور اچھی کارکردگی سے پاکستانی ٹیم تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔‘

فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی کے بعد سے ذوالفقار بابر نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ وہ وقت بھی آیا اور ہر سیزن میں وہ قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے چلے آئے یہاں تک کہ ایک سیزن میں انھوں نے چھیانوے وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔

وہ پاکستان کے ان چند بولرز میں سے ایک ہیں جنھوں نے فرسٹ کلاس میچ کی ایک اننگز میں تمام کی تمام دس وکٹیں حاصل کی ہیں۔

ان کی اسی مسلسل شاندار کارکردگی نے سلیکٹرز کو بھی مجبور کردیا کہ وہ ان کی عمر پر نظر ڈالنے کے بجائے ان کی کارکردگی کو دیکھیں اور یوں ذوالفقار بابر کا انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا خواب پورا ہوگیا۔

ذوالفقار بابر نے جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ سال ابوظہبی میں ٹیسٹ کیپ حاصل کی تو وہ میراں بخش کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کی ابتدا کرنے والے دوسرے عمر رسیدہ پاکستانی کرکٹر تھے۔

آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے کریئر کا آغاز کرتے ہوئے بھی وہ یونس احمد کے بعد دوسرے سب سے عمر رسیدہ پاکستانی کرکٹر کے طور پر اپنا نام ریکارڈ بک میں درج کرانے میں کامیاب ہوئے۔

گزشتہ سال جب انھوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلا تھا تو اس وقت بھی ریکارڈ بک میں ان کا نام انضمام الحق کے بعد دوسرے عمررسیدہ کرکٹر کے طور پر لکھا گیا تھا۔

ذوالفقار بابر کے بارے میں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے والد پاکستان کے انٹرنیشنل فٹبالر رہ چکے ہیں لیکن ذوالفقار بابر نےکرکٹ کو اپنایا۔