فٹبالر باپ کا کرکٹر بیٹا

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈھاکہ
ذوالفقار بابر نے ہوش سنبھالا تو اپنے اردگرد فٹبال کا ماحول دیکھا۔ان کے والد عبدالغفار فٹبالر تھے جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی بھی کی لیکن ذوالفقار بابر نے اپنے شوق کی تسکین کے لیے کرکٹ کا انتخاب کیا اور اوکاڑہ کے چھوٹے سے شہر سے شروع ہونے والا یہ سفر انہیں پاکستانی کرکٹ ٹیم تک لا چکا ہے۔
ذوالفقار بابر بی بی سی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہتے ہیں’ میرے والد بہت اچھے سپورٹس مین رہے لیکن انھوں نے مجھے کبھی اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ میں بھی ان ہی کی طرح فٹبال کھیلوں۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ جس کھیل کا شوق بچے میں ہوتا ہے وہ اسی میں کامیاب ہوتا ہے۔ میں نے انڈر17 کی سطح تک فٹبال کھیلی لیکن مجھے کرکٹ کا کھیل ہمیشہ اچھا لگتا تھا لہذا میں نے وہ شروع کردیا۔‘
آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل کپتان محمد حفیظ نے کہا تھا کہ اس عالمی مقابلے میں ذوالفقار بابر بھرپور تاثر چھوڑیں گے۔ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں یہ بات درست ثابت ہوئی اور ذوالفقار بابر نے پہلے ہی اوور میں ڈیوڈ وارنر اور شین واٹسن کی شکل میں آگ برساتی توپوں کو خاموش کردیا۔
ذوالفقار بابر اپنی اس عمدہ کارکردگی پر بہت خوش ہیں۔
’ ظاہر ہے کہ ہر بڑی ٹیم کے خلاف کھیلتے وقت دباؤ ہوتا ہے لیکن کپتان محمد حفیظ نے مجھے بہت اعتماد دیا۔ مجھے یہ بھی پتہ تھا کہ آسٹریلوی بیٹسمین سپنرز کو اچھا نہیں کھیلتے لہذا اسی سوچ کے ساتھ باؤلنگ کی اور پہلے ہی اوور میں دو اہم وکٹیں مل گئیں ۔جب سپنر کو جلد وکٹیں مل جائیں تو اس کا اعتماد بہت بڑھ جاتا ہے جو آنے والے میچوں میں اس کے اور ٹیم کے بہت کام آتا ہے۔‘
آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کے اگلے دو میچز بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ہیں۔
ذوالفقار بابر نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا آغاز بھی ویسٹ انڈیز کے خلاف شاندار انداز میں کیا تھا اور تین وکٹیں حاصل کرنے کے علاوہ میچ کی آخری گیند پر چھکا لگاتے ہوئے پاکستان کو کامیابی دلائی تھی۔ اگلے میچ میں انھوں نے ایک اور اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے دو وکٹیں حاصل کی تھیں اور مین آف دی سیریز رہے تھے۔
ذوالفقار بابر اپنی اس عمدہ کارکردگی کو ڈھاکہ میں بھی دوہرانے کے لیے پرعزم ہیں۔
’ ویسٹ انڈیز کے خلاف پچھلی کارکردگی سے مجھ میں جو اعتماد آیا تھا میں اسے جاری رکھنا چاہتاہوں۔ ویسٹ انڈین بیٹسمینوں کے ذہنوں میں بھی میری کارکردگی محفوظ ہوگی اور وہ میری باؤلنگ پر اتنی آزادی سے رنز نہیں کرسکیں گے۔‘
ذوالفقار بابر نے ابھی تک ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے اور وہ ٹی ٹوئنٹی میں باؤلنگ کو ایک چیلنج سمجھتے ہیں۔
’ ٹی ٹوئنٹی ایک مختلف اور تیز فارمیٹ ہے جس میں باؤلر کو اسی وقت وکٹیں ملتی ہیں جب وہ رنز روکنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر وہ صرف وکٹ حاصل کرنے کے بارے میں سوچتا ہے تو پھر اس کی باؤلنگ پر رنز بنتے ہیں۔‘
ذوالفقار بابر کی عمر پنتیس سال سے اوپر ہوچکی ہے۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ دس سال سے بھی زائد عرصہ کھیل لینے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں آئے لیکن انہیں اس کا کوئی دکھ نہیں ہے بلکہ ان کی توجہ اب صرف اور صرف اس بات پر ہے کہ جو بھی موقع انہیں مل رہا ہے اس سے وہ بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنی باؤلنگ سے پاکستانی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کریں۔
’ میں ابھی تک جتنے بھی میچ کھیلا ہوں کارکردگی اچھی رہی ہے میں سمجھتا ہوں کہ تینوں فارمیٹ میں میں اچھی کارکردگی دکھاسکتا ہوں۔‘



