ورلڈ کپ سے پہلے پاکستانی کرکٹ بحران کا شکار

مصباح الحق

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمصباح الحق نے اس وقت ٹیم کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سمیت دو اہم فاسٹ بالر میچ فکسنگ میں ملوث پائے جانے کے بعد جیل روانہ ہو گئے تھے

کرکٹ ورلڈ کپ سے پہلے پاکستانی کرکٹ ایک مرتبہ پھر تنازع کا شکار ہو گئی ہے اور یہ سوال سامنے آیا ہے کہ مصباح الحق ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے یا نہیں۔

ان حالات کے لیے ٹیم ذمہ دار ہے یا پھر کرکٹ بورڈ۔ مصباح الحق آسٹریلیا کے خلاف ابوظہبی میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ون ڈے میں نہیں کھیلے جس کی وجہ انہوں نے اپنی خراب بیٹنگ فارم بتائی ہے لیکن ٹیم منیجمنٹ کے بارے میں سوالات اٹھے ہیں کہ اس نے مصباح الحق کو اعتماد دیتے ہوئے کھیلنے پر راضی کیوں نہیں کیا؟ حالانکہ وہ صرف چند اننگز میں ہی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں نہ کھیلنا اس وقت کرکٹ کا سب سے اہم موضوع بن گیا ہے اور اسے پاکستانی کرکٹ کی روایتی بے یقینی اور خود مصباح الحق کے مستقبل کے تناظر میں ایک اہم واقعے کے طور پر دیکھاجا رہا ہے۔

ورلڈ کپ میں ٹیم کی کپتانی پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں جس کی مثال ٹی ٹوئنٹی کے کپتان شاہد آفریدی کا یہ بیان ہے کہ بورڈ کو یہ واضح کرینا چاہیے کہ ورلڈ کپ میں کپتانی کون کرے گا۔حالانکہ مصباح الحق کو پہلے ہی اس کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کو بورڈ کی مکمل حمایت حاصل ہے انہیں ورلڈ کپ تک کے لیے کپتان بنایا جاچکا ہے لیکن وہ کپتانی جاری رکھنا چاہتے ہیں یا چھوڑنا چاہتے ہیں اس کا فیصلہ خود مصباح الحق کو کرنا ہے۔

مصباح الحق کے تازہ ترین بیان سے بھی ان کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں سامنے آرہی ہیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر ان سے رنز نہیں ہوسکے تو وہ ٹیم پر بوجھ نہیں بنیں گے۔

یاد رہے مصباح الحق نے اس وقت ٹیم کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سمیت دو اہم فاسٹ بالر میچ فکسنگ میں ملوث پائے جانے کے بعد جیل روانہ ہو گئے۔

تیسرے ایک روزہ میچ میں شاہد آفریدی نے کپتانی کی تھی لیکن ٹیم وہ میچ بھی ہار گئی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنتیسرے ایک روزہ میچ میں شاہد آفریدی نے کپتانی کی تھی لیکن ٹیم وہ میچ بھی ہار گئی

ان حالات میں بھی مصباح کا دور بہترین سمجھا جاتا تھا۔

مصباح الحق گزشتہ تین برس سے پاکستانی بیٹنگ میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال ایک روزہ میچوں میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ 1375 رنز سکور کیے تھے۔

انہیں سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بعد پاکستانی ٹیم کی قیادت سونپی گئی تھی اور ان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم چالیس ایک روزہ انٹرنیشنل اوربارہ ٹیسٹ میچز جیت چکی ہے جن میں عالمی نمبر ایک انگلینڈ کو وائٹ واش کرنا بھی شامل ہے۔ تاہم بعض ناقدین ان کے بیٹنگ اور کپتانی کے انداز کو دفاعی قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

اس سال سری لنکا کے دورے اور اب آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں قابل ذکر اننگز نہ کھیلنے کے سبب ان پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے تاہم سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی اکثریت کا خیال ہے کہ ورلڈ کپ سے قبل قیادت کی تبدیلی ٹیم کی کارکردگی پر اثرانداز ہوگی۔