یہ وقت مصباح کو ہٹانے کا نہیں: وسیم اکرم

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ اسوقت کوئی بھی کرکٹر مصباح الحق کی جگہ کپتان بننے کے لیے موجود نہیں لہذا اس مرحلے پر انہیں کپتانی سے ہٹانا دانشمندی نہیں ہوگی۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق لیگ سپنر عبدالقادر کہتے ہیں کہ آسٹریلیا کی موجودہ ٹیم اپنی تاریخ کی کمزور ترین ٹیموں میں سے ایک ہے اور اس کےخلاف پاکستانی ٹیم کی بدترین کارکردگی افسوسناک ہے جس کی ذمہ داری ٹیم منیجمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔
وسیم اکرم نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر اسوقت کوئی بھی کپتان یہ ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہوچکا ہوتاتو مصباح الحق کو ہٹانے کے بارے میں سوچا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہے لہذا ہمیں ورلڈ کپ تک مصباح الحق کو ہی کپتان برقرار رکھنا ہوگا۔
وسیم اکرم نے کہا کہ مصباح الحق کو اپنی کپتانی میں دلیری لانی ہوگی اور اگر اب بھی وہ جرات مندانہ فیصلے نہیں کرینگے تو پھر کب کرینگے۔
انہوں نے دوسرے ون ڈے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اوپنرز کی سنچری پارٹنرشپ کے بعد مصباح الحق کو چاہیے تھا کہ وہ عمراکمل کو بیٹنگ کے لیے بھیجتے ۔
وسیم اکرم نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں وائٹ واش کے بارے میں کہا کہ یہ بات سب کو اچھی طرح معلوم تھی کہ پاکستان کا مقابلہ دنیا کی ایک بڑی ٹیم سے ہے اس صورتحال میں پاکستانی ٹیم کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں کیونکہ پاکستانی ٹیم پورے سال میں دوسری ٹیموں کے مقابلے میں بہت کم انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتی ہے۔پاکستان اے کے دورے نہیں ہو رہے ہیں انڈر نائنٹین کے دورے بہت کم ہوتے ہیں۔
وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی موجودہ کارکردگی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ورلڈ کپ میں حالات اس کے لیے بہت مشکل ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ عمراکمل اور احمد شہزاد باصلاحیت بیٹسمین ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان میں مستقل مزاجی کب آئے گی۔
وسیم اکرم نے کہا کہ سعید اجمل کی غیرموجودگی میں بولنگ مشکل سے دوچار ہے اور انہیں یہ فکر ہورہی ہے کہ ٹیسٹ سیریز میں بیس وکٹیں کون لے گا؟
سابق لیگ سپنر عبدالقادر نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی ٹیم مسلسل شکست سے دوچار ہو رہی ہے لیکن کرکٹ بورڈ اور ٹیم منیجمنٹ سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم کی خراب کارکردگی کا ذمہ دار بھاری معاوضے لینے والا کوچنگ سٹاف ہے۔
عبدالقادر نے کہا کہ یونس خان ہوں یا مصباح الحق تمام سینیئر کرکٹرز عزت کے قابل ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ ان کے ساتھ نامناسب سلوک اختیار کیے ہوئے ہے ۔
انہوں نے کہاکہ طویل عرصے سے کرکٹ بورڈ میں موجود افسران کی کارکردگی کا احتساب ہونا چاہیے۔



